قرآن کی تعلیم یا تکفیری ملاؤں اور کٹھ پتلی حکومتوں کی پیروی؟ کون یہود و نصاریٰ کا دوست ہے؟
سعودیہ
شیعیت نیوز : قرآن مجید واضح طور پر فرماتا ہے: «اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناؤ، یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست اور سرپرست ہیں۔ اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی کرے گا، تو وہ انہی میں سے ہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔»
یہ بھی پڑھیں : ایران امریکہ کے بجائے عرب ممالک کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے؟
امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے رہا، بلکہ اس پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے اور فوجی دباؤ ڈال رہا ہے۔ دوسری طرف وہی امریکہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کی تیاری کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی تازہ بریفنگ کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے شرط یہ رکھی گئی ہے کہ سعودی عرب ابراہامی معاہدوں میں شامل ہو، یعنی صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا ملک یہود و نصاریٰ کا حقیقی دوست ہے اور کون ان کا دشمن؟ ایران جو صہیونی حکومت اور امریکی استکبار کے سامنے ڈٹا ہوا ہے، یا وہ حکومتیں جو امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ کھلے عام اتحاد کر رہی ہیں؟
کیا اب بھی عقل کے اندھوں کو سمجھ نہیں آیا؟ قرآن کی تعلیم واضح ہے، مگر تکفیری ملا اور کٹھ پتلی حکومتیں اس کے خلاف عمل کر رہی ہیں۔ ایران اپنے اصولوں پر ثابت قدم ہے، جبکہ کچھ ممالک دنیاوی مفادات کے لیے قرآن کی ہدایات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔







