رہبرِ شہید؛ امتِ رسولؐ کے شہید اور انسانیت کے عظیم رہنما تھے، مفتی سید عاشق حسین
مفتی سید عاشق حسین
شیعیت نیوز : خطیب جمعہ جامعہ سیدہ فاطمۃ الزہراء (س)، مدیر اعلیٰ جامعہ زینبیہ بنام اسیرۂ شام حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا، جامعہ بنات الاسلام اور جامعہ بیت القرآن برائے طلبہ کے سربراہ مفتی سید عاشق حسین نے ایران کے دورے اور رہبرِ شہید کی تشییع جنازہ میں شرکت کے دوران حوزہ نیوز کے نمائندہ سے گفتگو میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں علامہ سید افتخار حسین نقوی چیئرمین امام خمینی (رہ) ٹرسٹ، شاہد رئیس اور خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل آغا علی اصغر مسعودی کا شکر گزار ہوں جن کی کاوشوں سے مجھے اس عظیم موقع میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔
مفتی سید عاشق حسین نے کہا کہ تہران ایئرپورٹ پہنچنے سے لے کر تہران، قم اور دیگر مقامات تک جہاں بھی گیا، ایرانی عوام نے پاکستان کے لیے غیر معمولی محبت، احترام اور اپنائیت کا اظہار کیا۔ جس ایرانی نے بھی مجھے پاکستانی لباس میں دیکھا، مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا اور "پاکستان، ایران دوستی زندہ باد” اور "پاکستان و ایران برادر” کے نعروں سے محبت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت صرف ایران کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور انسانیت کا مشترکہ سانحہ تھا۔ وہ امتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہید اور انسانیت کے عظیم رہنما تھے۔ ان کی استقامت نے عالم اسلام کے مقدسات کے دفاع میں تاریخی کردار ادا کیا۔
مفتی سید عاشق حسین نے کہا کہ صہیونی حکومت کے سربراہ نے جنگ کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران ان کے راستے کی دیوار ہے اور اگر ایران کو شکست دے دی جائے تو اگلا ہدف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہوں گے، لیکن ایران نے اپنے عزم و استقامت سے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے۔
یہ بھی پڑھیں : ہندوستان کے شہر بولپور میں شہیدِ راہِ کربلا آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی یاد میں عظیم الشان بین المذاہب سیمینار
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی تشییع میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت، جس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی شامل تھے، اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہیں۔
مفتی سید عاشق حسین نے کہا کہ اپنے آٹھ روزہ قیام کے دوران مجھے حوزہ علمیہ قم کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی، ان کے معاونین، قم یونیورسٹی اور امام خمینی (رہ) سے وابستہ علمی شخصیات سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان ملاقاتوں میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اتحاد، محبت اور باہمی احترام پر جس انداز سے گفتگو ہوئی، وہ انتہائی قابلِ تحسین تھی۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کی موجودگی کے دوران مجھے پاکستان کی نمائندگی کے اعزاز کے ساتھ ابتدائی صفوں میں جگہ دی گئی، جہاں مختلف ممالک کے علماء، سفراء اور اعلیٰ شخصیات موجود تھیں۔ یہ عزت دراصل پاکستان اور ایرانی عوام کے درمیان مضبوط تعلقات کا مظہر تھی۔
جامعہ بیت القرآن برائے طلبہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران میں مجھے جو محبت اور احترام ملا، وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا ثمر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی قوم کا جذبۂ ایثار، شہادت سے محبت، بہادری اور استقامت ہی اس کی حقیقی قوت ہے، جو اسے ہر آزمائش میں کامیاب بناتی ہے۔
انہوں نے ایرانی عوام کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید کی تشییع کے دوران نوجوان، بزرگ، خواتین اور بچے ہاتھوں میں پانی، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ لیے شرکاء کی خدمت میں مصروف تھے۔ حکومت ایران نے انتظامات، ساؤنڈ سسٹم اور عوامی سہولیات کا بہترین اہتمام کیا، جو اپنی مثال آپ تھا۔
مفتی سید عاشق حسین نے آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایران کو مزید عزت، استحکام اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ علامہ اقبال کے الفاظ آج بھی حقیقت کا آئینہ ہیں کہ اگر تہران عالمِ مشرق کا جنیوا بن جائے تو کرۂ ارض کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام ان نعروں پر کیا: "پاکستان، ایران برادر” اور "پاکستان، ایران دوستی زندہ باد۔”







