ہندوستان کے شہر بولپور میں شہیدِ راہِ کربلا آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی یاد میں عظیم الشان بین المذاہب سیمینار

24 جولائی, 2026 12:56

شیعیت نیوز : ملک ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے شہر بولپور میں حلقۂ قادریہ بولپور اور تقریبِ مذاہب کونسل دہلی کے مشترکہ تعاون سے "شہیدِ راہِ کربلا حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (قدس سرہ)” کے عنوان سے ایک عظیم الشان بین المذاہب سیمینار منعقد ہوا۔

سیمینار میں علماء، دانشوروں، مختلف مکاتبِ فکر کے مذہبی و سماجی رہنماؤں، طلبہ، نوجوانوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے امامِ امت کی علمی، فکری اور انقلابی خدمات، امتِ مسلمہ کے اتحاد، بین المذاہب ہم آہنگی اور مظلوم اقوام کی حمایت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور رہبرِ معظم کے افکار کو عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد منتظمین نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ اس موقع پر کہا گیا کہ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شخصیت صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے استقامت، بصیرت اور وحدت کی علامت ہے۔

سیمینار میں سجادہ نشین سید ذیشان احمد ارزانی آستانۂ دیوان شاہ ارزانی پنتہ (بہار)، سید خالد نقوی متولی آستانۂ سید علی میرا داتار (گجرات)، سید علی جون قادری متولی حلقۂ قادریہ بولپور بنگال، سید مصطفیٰ جمیل قادری متولی آستانۂ میدنی پور بنگال، سید رشادت علی قادری متولی آستانۂ قادریہ کربلا نگر بولپور بنگال، شیخ زبیر حسینی رئیس میثم تمار فاؤنڈیشن (اورنگ آباد)، مفتی نورالدین مصباحی مدیر مدرسہ عزیز العلوم فخر پور بہرائچ، ممتاز اہلِ سنت خطیب قاری احمد حسن امروہا اتر پردیش، ہندو سماجی و ثقافتی شخصیت نلیش چٹرجی، مغربی بنگال اقلیتی کمیشن کے چیئرمین احمد حسن عمران، حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر شیخ رضوان السلام استاد دانشگاہ شانتی نکیتن، حجۃ الاسلام منیر عباس نجفی، تقریب مذاہب کونسل کے چیئرمین حجۃ الاسلام سید صادق حسینی، حجۃ الاسلام سید انصار حسین نقوی اور حجۃ الاسلام وفادار حسین سمیت متعدد شخصیات نے خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں : دشمن کے سامنے پسپائی حرام ہے، امریکہ کو خطے سے نکالا جائے گا، ایرانی جنرل

اہلسنت عالم دین مفتی نور العین مصباحی نے "امامِ شہید کی عاشورائی سیرت” پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عاشورا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف دائمی مزاحمت اور حق و عدالت کی علامت ہے۔

قاری احمد حسن نے "امامِ شہید کی نظر میں ہندوستان کی اہمیت و مقام” پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان صدیوں سے دینی، تہذیبی اور ثقافتی ہم آہنگی کا مرکز رہا ہے اور اس روایت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ہندو رہنما نلیش چٹرجی نے "اہلِ ہند کی امامِ شہید سے عقیدت” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ اور حق و انصاف کی تعلیمات کسی ایک مذہب تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔

مفتی نورالدین مصباحی نے "مقدساتِ اہلِ سنت کی توہین کی حرمت کے بارے میں رہبرِ معظم کے فتویٰ” پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا یہ فتویٰ امتِ مسلمہ کے اتحاد، احترامِ مقدسات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا اہم منشور ہے۔

پیر طریقت سید رشادت علی قادری نے "امامِ شہید کی تشییعِ جنازہ کے بین الاقوامی اثرات” پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی اجتماع نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق، استقامت اور مزاحمت کی فکر سرحدوں کی پابند نہیں۔

پیر طریقت سید علی جون قادری نے امام شہید کے کربلایی کردار پر مکمل روشنی ڈالی۔

تقریب مذاہب کونسل کے چیرمین حجۃ الاسلام سید صادق حسینی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے ہمیشہ اتحادِ بین المسلمین کو اپنی فکر کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کے نزدیک شیعہ اور سنی ایک امت ہیں اور دشمن کی سب سے بڑی سازش مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔ اگر امت قرآن، سیرتِ رسول اکرمؐ اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو محور بنائے تو کوئی طاقت اسے کمزور نہیں کر سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظم کا مقدساتِ اہلِ سنت کی توہین کی حرمت سے متعلق تاریخی فتویٰ امت کے اتحاد کی عملی تفسیر ہے، جس نے پوری اسلامی دنیا میں اخوت، احترام اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ رہبرِ معظم کے افکار، بصیرت اور وحدتِ امت کے پیغام کو عام کریں، کیونکہ موجودہ عالمی حالات میں مسلمانوں کی عزت، آزادی اور طاقت کا راز اتحاد، بیداری اور باہمی تعاون میں مضمر ہے۔

2:17 شام جولائی 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔