شدید ترین امریکی پابندیوں کے باوجود علمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، چانسلر تہران یونیورسٹی
محمد حسین امید
شیعیت نیوز : تہران یونیورسٹی کے چانسلر محمد حسین امید نے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید ترین امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث ملک کے متعدد بین الاقوامی علمی روابط محدود ہو گئے ہیں، تاہم ان ظالمانہ پابندیوں کا بھرپور مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی رجیم امن کی درخواست کا جواب دینے کے بجائے کشیدگی بڑھا رہی ہے، یمن
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے ساتھ کھیلوں اور یونیورسٹیوں کے تبادلوں پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ای ٹی ایس (ETS) ادارے نے بھی امریکی ضوابط کا بہانہ بناتے ہوئے ایران میں ٹوفل (TOEFL) اور جی آر ای (GRE) امتحانات کا انعقاد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ محمد حسین امید نے بتایا کہ پابندیوں کے باعث ایرانی محققین کے مضامین کئی بین الاقوامی جرائد میں شائع نہیں کیے جا رہے، تاہم متبادل اور دوست ممالک کے ساتھ علمی روابط بڑھانے کی موثر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، وزیر تعلیم کے معاون برائے تحقیق سید مہدی ابطحی نے امریکہ کی نئی جامعاتی پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ‘علم کے خلاف پابندی’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان نامناسب پابندیوں کے متبادل راستوں کے لیے ایک جامع پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔







