شلمچہ بارڈر پر امریکی میزائل حملہ: دو زائر شہید، گیارہ زخمی، مگر عشقِ حسینؑ متزلزل نہ ہوا

23 جولائی, 2026 12:11

شیعیت نیوز : تاریخ ایک بار پھر دہرائی گئی؛ یزیدِ وقت کا زائرینِ کربلا پر حملہ، شلمچہ بارڈر پر میزائل حملہ بھی زائرینِ اربعین کے عزم کو متزلزل نہ کر سکا۔

ایران کے شلمچہ بارڈر کے قریب امریکی میزائل حملے میں دو زائر شہید اور گیارہ زخمی ہوگئے، تاہم زائرینِ اربعین کے جذبۂ عشقِ امام حسینؑ میں کوئی کمی نہ آئی۔ تاریخ ایک بار پھر گواہ بنی کہ خطرات، پابندیاں اور دھمکیاں عاشقانِ اہل بیتؑ کے قدم نہیں روک سکتیں، اور کربلا کی راہ میں وہ ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

اہواز سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خوزستان کے نائب گورنر برائے سکیورٹی و انتظامی امور ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ شلمچہ سرحد پر مسافر ٹرمینل کے اطراف امریکی فوج کے میزائل حملے میں دو افراد شہید جبکہ گیارہ زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی مراکز منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

حملے کے باوجود شلمچہ بارڈر پر زائرینِ اربعین کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہی اور لاکھوں عاشقانِ امام حسینؑ اپنے سفرِ زیارت پر ثابت قدم رہے۔ حکام کے مطابق اس واقعے سے زائرین کے سفر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی اور تمام سرکاری و امدادی ادارے پوری استعداد کے ساتھ زائرین کی خدمت میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں

تاریخ گواہ ہے کہ اہل بیتؑ کے چاہنے والوں کو ہمیشہ زیارت سے روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن عشقِ حسینؑ کے متوالے کبھی خوف کے سامنے نہیں جھکے۔ صدام ملعون کے دور میں جب زیارتِ اربعین پر سخت ترین پابندیاں عائد تھیں، ہزاروں زائرین نے علمائے کرام کی قیادت میں اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر پیدل کربلا کا رخ کیا۔ اس زمانے میں بے شمار زائرین نے قید و بند، تشدد اور شہادت کو قبول کیا، مگر زیارتِ امام حسینؑ سے دستبردار نہ ہوئے۔

آج بھی شلمچہ پر ہونے والا حملہ اسی حقیقت کو دہرا رہا ہے کہ کربلا کی محبت کو نہ گولی روک سکتی ہے، نہ میزائل اور نہ ہی طاقت کا کوئی مظاہرہ۔ زائرین کے پرعزم قافلے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عشقِ امام حسینؑ ہر خوف پر غالب ہے اور زیارتِ اربعین کا یہ عظیم سفر ہر حال میں جاری رہے گا۔

1:24 شام جولائی 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔