امریکی انٹیلی جنس کا اعتراف: ٹرمپ کی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی مکمل ناکام

23 جولائی, 2026 11:08

شیعیت نیوز : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی تعطل کا شکار ہوگئی ہے اور ایران نے مختلف داخلی اور تزویراتی عوامل کی بدولت اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے حق میں نئی صورت حال پیدا کی ہے۔

امریکی خارجہ پالیسی میں طویل عرصے سے یہ تصور موجود رہا ہے کہ فوجی دباؤ، اقتصادی پابندیاں، نفسیاتی جنگ اور مسلسل دھمکیوں کے ذریعے مخالف ملک کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، تاہم ایران کے معاملے میں یہ ماڈل مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا۔

واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلی جنس اداروں کے جائزے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران پر فوجی حملے تہران کے تزویراتی رویے یا فیصلوں میں تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا خیال ہے کہ اس پالیسی کو جاری رکھنے سے نہ صرف فوجی محاذ پر کامیابی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ وائٹ ہاؤس کو سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکی عوام میں جنگ کی حمایت کم ہو رہی ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران دیگر ممالک سے مختلف ہے کیونکہ بیرونی دباؤ کو صرف سکیورٹی خطرہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور شناخت پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں داخلی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور قومی یکجہتی میں اضافہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی طاقت صرف عسکری صلاحیت تک محدود نہیں بلکہ میزائل قوت، جغرافیائی گہرائی، بحرانوں سے نمٹنے کا تجربہ، دباؤ سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت اور فیصلہ سازی کے مربوط نظام پر بھی مشتمل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی ایک بڑی تزویراتی غلطی یہ رہی کہ اس نے طاقت کو ایک خطی تصور کے تحت دیکھا، یعنی یہ فرض کیا کہ جتنا زیادہ فوجی یا اقتصادی نقصان پہنچایا جائے گا، اتنی ہی مخالف کی فیصلہ سازی کمزور ہوگی۔ تاہم ایران کے معاملے میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پابندیوں، جنگ، تخریبی کارروائیوں اور مختلف دباؤ کے باوجود فیصلہ سازی کا نظام مزید بحرانوں سے ہم آہنگ ہوتا گیا اور بیرونی دباؤ نے بعض مواقع پر ایران کی داخلی صلاحیتوں کو مزید فعال کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں : رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کا شہیدوں کی والدہ کے انتقال پر تعزیتی پیغام

رپورٹ کے مطابق ڈیٹرنس کا بنیادی مقصد مخالف کی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوتا ہے، لیکن امریکی انٹیلی جنس کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی حملے ایران کے تزویراتی فیصلوں میں تبدیلی نہیں لا سکے، جس کا مطلب ہے کہ امریکی فوجی دباؤ اپنے بنیادی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران وقت کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ امریکی قیادت انتخابی سیاست کے باعث فوری نتائج کی خواہاں ہوتی ہے، جبکہ ایران طویل المدتی حکمت عملی کے تحت فیصلے کرتا ہے، جس کی وجہ سے طویل کشیدگی کے سیاسی اخراجات امریکہ کے لیے نسبتاً زیادہ بڑھتے جاتے ہیں۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے تجربات کے بعد امریکی عوام طویل جنگوں کے حوالے سے زیادہ حساس ہو چکے ہیں۔ اگر جنگ طول پکڑے اور واضح کامیابی حاصل نہ ہو تو امریکی حکومت پر داخلی سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

رپورٹ میں سیاسی نفسیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب کوئی سیاسی رہنما اپنی ساکھ کو کسی مخصوص حکمتِ عملی سے جوڑ دیتا ہے تو اس کے لیے اس پالیسی سے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو Commitment Trap کہا جاتا ہے، جس میں ناکامی کے باوجود اسی پالیسی پر مزید وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کے حالیہ جائزے صرف جنگی صورتحال کا تجزیہ نہیں بلکہ ایران کے خلاف دباؤ کی حکمت عملی کی محدود افادیت کا اعتراف بھی ہیں۔ ایران کے معاملے میں بیرونی دباؤ نہ صرف اس کی تزویراتی قوت کو کمزور کرنے میں ناکام رہا بلکہ اس سے داخلی یکجہتی، مزاحمتی صلاحیت اور قومی عزم مزید مضبوط ہوا، جس کے باعث واشنگٹن کی روایتی دباؤ پر مبنی پالیسی کو بنیادی چیلنج کا سامنا ہے۔

12:40 شام جولائی 23, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔