آیت اللہ جوادی آملی کی رہبرِ شہید کی نماز جنازہ کی تشریح
شیعیت نیوز : آیت اللہ العظمیٰ عبداللہ جوادی آملی نے رہبرِ شہید کی نمازِ جنازہ کے متن کی تشریح کرتے ہوئے "شہید” اور "قتیل” کے مفاہیم میں فرق واضح کیا اور کہا کہ موجودہ رہبر معظم کی تائید، حمایت اور حفاظت امت کی شرعی و اجتماعی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اربعین اور انقلاب دونوں ایک دوسرے کے تکمیلی محاذ ہیں، حجت الاسلام علی رضا پناہیان
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی نمازِ جنازہ میں عام قتل اور حقیقی شہادت کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ روایات کے مطابق جو شخص حق، مال یا اپنی عزت و حرمت کے دفاع میں قتل ہو، وہ عام معنی میں شہید ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: «مَن قُتِلَ دُونَ مَالِهِ ظُلْمًا فَهُوَ شَهِيدٌ»۔
آیت اللہ جوادی آملی نے وضاحت کی کہ خاص معنی میں "شہادت” کا مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کوئی اسلام، قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کے دفاع میں اپنی جان قربان کرے۔ اسی بنا پر نمازِ جنازہ میں ان کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے: «اللهم إنه نزل عندك شهيداً للإسلام والقرآن والعترة»۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ایران کی آزادی، خودمختاری، قومی سلامتی، معیشت اور امتِ مسلمہ کے مفادات کے دفاع کا ذکر آیا، وہاں "قتیل” کی تعبیر اختیار کی گئی، کیونکہ یہ ان کی عظیم قربانی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتی ہے، اگرچہ عام مفہوم کے اعتبار سے یہ بھی شہادت ہی کے زمرے میں آتا ہے۔







