سعودی عرب: قطیف اور شیعہ اکثریتی علاقوں میں نئے بلدیاتی ضوابط اور انہدامی مہمات سے شدید تشویش

01 جولائی, 2026 09:42

شیعیت نیوز : سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں بلدیاتی حکام کی جانب سے رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے لیے لازمی قرار دیے گئے "سرٹیفکیٹ آف کمپلائنس” پروگرام اور جائیدادوں سے متعلق نئی انتظامی کارروائیوں نے مقامی آبادی، خصوصاً شیعہ اکثریتی علاقوں قطیف اور اس کے نواح میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف شہری ترقی تک محدود نہیں بلکہ ان کے ذریعے علاقے کی مذہبی و سماجی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مشرقی صوبے کی بلدیہ نے اب تک 4563 سے زائد معائنے کیے ہیں اور غیر مطابقت رکھنے والی عمارتوں کے خلاف جرمانے اور انہدامی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ وعدے پورے نہ کرے تو ایران جنگ کے لیے تیار ہے، قالیباف

مقامی شہریوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط سے چھوٹے کاروباری افراد اور محدود وسائل والے مالکان پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

اسی دوران قطیف، عوامیہ، صفوی اور اوجام جیسے علاقوں میں انہدام اور اراضی ہموار کرنے کی نئی مہمات کی تیاری کی جا رہی ہے۔ زرعی اراضی کے مالکان کو ملکیتی دستاویزات فوری جمع کرانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جس سے مقامی آبادی میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہ اقدام اراضی اور مذہبی اوقاف کی سرکاری تحویل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ناقدین نے ان اقدامات کو شیعہ آبادی کو منتشر کرنے، قطیف کے سماجی و ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے اور آبادی کو سنی اکثریتی علاقوں کی طرف منتقل کرنے کی پالیسی قرار دیا ہے۔

11:05 صبح جولائی 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔