بنو امیہ کے خلاف جنگ کرنے والے "خوارج” کربلا کی جنگ میں کیوں غائب تھے؟
شیعیت نیوز : تاریخ کے محقق اور حوزہ علمیہ قم کے استاد حجت الاسلام والمسلمین محمد رضا جباری نے تاریخی مآخذ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خوارج نے ایک منظم گروہ کے طور پر قیامِ امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی صدر کی مسجد مقدس جمکران میں حجت الاسلام اجاق نژاد سے ملاقات
حجت الاسلام جباری نے بتایا کہ خوارج نہ تو امام حسینؑ کے حق کے مورچے (اصحاب امام) میں شامل ہوئے اور نہ ہی باطل کے مورچے (عمر سعد کی فوج) میں اجتماعی طور پر شریک ہوئے۔ ان کی طرف سے اس عظیم واقعے کے بارے میں کوئی خاص اظہار خیال بھی تاریخی مآخذ میں نقل نہیں کیا گیا۔
تاہم، بنی امیہ کے خلاف قیام کی عمومی نوعیت خوارج کے نزدیک قابل قبول تھی، کیونکہ وہ اموی حکمرانی کے سخت مخالف تھے۔
انفرادی استثناء: شبث بن ربعی جیسے افراد جو بعد میں کربلا میں باطل کے مورچے پر کھڑے ہوئے، خوارج کی فکری تحریک کے حقیقی نمائندہ نہیں تھے۔
نتیجہ: ایک منظم گروہ کے طور پر خوارج کا کربلا اور امام حسینؑ کے قیام کے حق یا مخالفت میں کوئی خاص مؤقف نہیں تھا۔







