ایرانی صدر پزشکیان کا پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف، امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت
شیعیت نیوز : ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیر داخلہ سید محسن نقوی سے ملاقات کے دوران جنگ بندی کے قیام اور اس کے استحکام کے لیے پاکستان، خصوصاً وزیر اعظم پاکستان اور جنرل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے قیام میں مؤثر ثابت ہوں گے۔ صدر پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں اعلیٰ عسکری قیادت، وزراء، طلبہ اور شہریوں کی شہادت کو ایک سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات انسانی، قانونی اور بین الاقوامی اصولوں کے سراسر خلاف ہیں اور دنیا کا کوئی بھی باضمیر انسان انہیں قبول نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں : خبیث افغان طالبان کی شیعہ دشمنی کی نئی مثال، شیعہ اتحاد پارٹی پر پابندی، عزاداری پر سختی
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا اصل مقصد ایران میں داخلی عدم استحکام پیدا کرنا اور اسلامی نظام کو کمزور کرنا تھا، تاہم دشمن ایرانی عوام کے اتحاد، وفاداری اور مزاحمت کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ ایرانی قوم نے مشکل حالات میں غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک اور نظام کے ساتھ بھرپور وابستگی دکھائی۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے بعض دہشت گرد عناصر کو ایران کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی سرحدی علاقوں کے ذریعے داخل کرنے کی کوشش کی، تاکہ ملک کے اندر بدامنی پھیلائی جا سکے، تاہم پاکستان، افغانستان اور عراق نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہونے سے روک کر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، جس پر ایران ان ممالک کا شکر گزار ہے۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے سرحدی تجارت اور اقتصادی تعاون کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی، سائنسی اور ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ صدر پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ اسلامی ممالک کو اپنے مذہبی، ثقافتی اور تزویراتی مشترکات کی بنیاد پر اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے، کیونکہ امت مسلمہ کا اتحاد جتنا مضبوط ہوگا، بیرونی طاقتوں اور اسرائیل کی مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔ اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ حالیہ علاقائی حالات نے واضح کر دیا ہے کہ مشکل وقت میں حقیقی دوست اور دشمن کون ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط ہمیشہ برادرانہ رہے ہیں اور حالیہ واقعات کے بعد یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔







