ٹرمپ کے جنگی حکم پر نیول سیکرٹری مستعفی، امریکی فوجی قیادت میں بغاوت کی لہر
شیعیت نیوز : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اپنی بحری فوج کو حکم دیا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتی کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فوراً نشانہ بنا کر تباہ کر دیں، تاہم اسی حکم کے بعد امریکی بحریہ کے سیکرٹری جان سی فیلن نے ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
امریکی وزارت دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے تصدیق کی کہ جان سی فیلن اب امریکی بحریہ کے سیکرٹری نہیں ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ کسی اہم عہدیدار نے ٹرمپ انتظامیہ سے خود کو علیحدہ کیا ہو، اسی ماہ کے آغاز میں آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج نے بھی اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا کیونکہ انہوں نے ایران جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
امریکی بحریہ کے سیکرٹری جان سی فیلن ایسے نازک وقت میں مستعفی ہوئے ہیں جب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون کا بڑا اعتراف، آبنائے ہرمز کھلوانا فوری ممکن نہیں، چھ ماہ درکار ہوں گے
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ اور پھر ایران سے جنگ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد عہدیدار مستعفی ہو چکے ہیں اور عہدے چھوڑنے والوں کا کہنا تھا کہ ان کا ضمیر اس جبر کی اجازت نہیں دیتا۔
ماہرین کے مطابق امریکی فوجی قیادت میں اس پے در پے استعفوں کا سلسلہ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کے خلاف اندرونی بغاوت کی واضح علامت ہے جو واشنگٹن میں گہرے اختلافات کو ظاہر کر رہی ہے۔







