سانحہ ترلائی اسلام آباد پر حقیقت پسندانہ وضاحت: علامہ بشارت امامی صاحب کے خلاف تشدد کی حقیقت سامنے آ گئی

15 فروری, 2026 10:34

شیعیت نیوز : تحریر: سید عدیل عباس

کل سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اس عنوان کے ساتھ وائرل ہے کہ "شہداء کی مقتل گاہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ اسلام آباد میں علامہ بشارت امامی صاحب سے کسی شہید کے وارث کی طرف سے سوال اٹھانے پر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا”۔

کافی دوستوں نے اس واقعہ کے اصل حقائق جاننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں خود کل اسلام آباد میں موجود تھی اور نماز جمعہ جی 6/2 مرکزی امام بارگاہ میں ادا کرنے کے بعد ریلی میں شریک ہوئی۔ ترلائی کے کچھ ذمہ دار دوست بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جیسے ہی مجھے یہ افواہ ملی تو میں نے ان سے فوری طور پر تصدیق کی اور مغرب کے بعد خود ترلائی میں موجود ہوئی۔

بغیر کسی مرچ مصالحے کے اصل واقعہ یہ ہے:

علامہ بشارت امامی صاحب اور ان کے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رفقاء سانحہ کے دن سے لے کر اب تک مسلسل مشکوک حرکات کر رہے ہیں۔ ہر بار ان کی گفتگو مظلوم شہدا اور زخمیوں کے زخموں پر نمک پاشی کا باعث بن جاتی ہے۔ خودکش دھماکے کے زخموں سے زیادہ اپنوں کی زبان اور رویے کے زخم تکلیف دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

سانحہ کے بعد پہلی نماز جمعہ پر پوری قوم نے اجتماعی نماز جمعہ مرکزی امام بارگاہ جی 6/2 میں ادا کرنے اور شہداء سے تجدید عہد کا اعلان کیا۔ تشیع کی تمام نمائندہ جماعتیں اس کی تائید کر چکی تھیں اور علامہ بشارت امامی صاحب کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے حسب سابق اپنا رویہ برقرار رکھا اور عین جمعرات کو پریس کانفرنس کرکے اعلان کر دیا کہ "میں تو ترلائی میں ہی جمعہ پڑھاؤں گا”۔

ایک طرف قوم کا بہت بڑا اجتماع مرکزی امام بارگاہ میں ہو رہا تھا، دوسری طرف مقتل میں خطبہ جمعہ کے دوران علامہ بشارت امامی صاحب نے یہ کہا کہ "ان شہدا کا اصل وارث میں ہوں اور میں خود شہدا کی بریدہ لاشیں اٹھا رہا تھا”۔ جبکہ سب نے دیکھا کہ سانحہ کے چند لمحوں بعد قبلہ امامی صاحب کی انتظامیہ کے ساتھ میڈیا ٹاک میں ان کی عبا و قبا کی استری میں ایک شکن بھی نہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کالعدم سپاہ صحابہ : لشکر جھنگوی کی پشت پناہی سے باز نہ آئی، دہشت گرد معاویہ اعظم کو ایوارڈ دے دیا

کاش وہ واقعی شہدا کے لاشے اٹھاتے، خون آلود عبا و قبا اور عمامے کے ہمراہ میڈیا پر آتے اور مظلومیت بیان کرتے کہ کیسے ریاست ہمیں تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی۔ لیکن انہوں نے تو مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے فرمایا کہ "پولیس اور انتظامیہ نے فول پروف سیکورٹی انتظامات کر رکھے تھے”۔ باالفاظ دیگر یہ تو مسجد کے نمازیوں کی غلطی ہے کہ وہ اس مسجد میں دھماکے والے دن جمعہ پڑھنے کیوں آئے؟

کل جب خطبہ جمعہ کے دوران شہدا کے خاندانوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کی بجائے قبلہ امامی صاحب نے جیسے ہی اپنے اور اپنی جماعت کے کارہائے نمایاں بیان کیے تو ایک شہید بچے کے ماموں نے اٹھ کر منبر کے قریب جا کر ان کو عمامہ و عبا قبا کی حرمت اور احساس ذمہ داری دلوانے کی کوشش کی۔ تو ان کے قریبی رفقاء میں سے کچھ احباب نے اس شہید کے وارث کو مسجد کے ہال سے باہر لے جانے کی کوشش کی جس پر معمولی تکرار ہوئی۔ موقع پر موجود پولیس نے فوری طور پر کسی ہنگامہ آرائی سے بچنے کے لیے اس شہید کے ماموں کو امام بارگاہ کے ایک کمرے میں کچھ دیر کے لیے بند کر دیا اور بعد میں وہاں کے مقامی مومنین کی مداخلت سے معاملہ عارضی طور پر ٹھنڈا ہو گیا۔

لیکن ترلائی کی مقتل گاہ جہاں سے شہداء کے پاکیزہ خون سے اتحاد و وحدت کا پیغام پورے پاکستان میں جانا چاہیے تھا، علامہ بشارت امامی صاحب اور ان کی جماعت کی ناعاقبت اندیشی سے مسلسل تفریق اور ملت کی کمزوری کا پیغام نشر ہو رہا ہے اور یہ ترلائی کے بڑے بڑے بانیان کے لیے بھی سوالیہ نشان ہے۔

میں کئی شہداء کے گھروں میں گئی تو ان کے ورثاء رو رو کر کہہ رہے تھے کہ جہاں ہمارے پیارے چلے گئے وہاں ہمیں تو علامہ بشارت امامی صاحب کے پیچھے پڑھی جانے والی نمازوں کے ضیاع کا افسوس بھی کھائے جا رہا ہے۔ مقامی افراد کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں کے مظلوم شہداء کے ورثاء کہہ رہے تھے کہ اب ہماری ان کے پیچھے نماز بھی جائز نہیں۔

علامہ بشارت امامی صاحب اور ان کی جماعت سے گزارش ہے کہ عذر گناہ بدتر گناہ کی روش چھوڑ کر اب بھی قوم سے معافی مانگیں۔ شہداء کے خاندانوں کے سامنے جھک کر اپنے مسلسل بے بصیرت رویے کا ازالہ کریں۔ آپ بھی ہمارے جسم کا حصہ ہیں، آپ بھی ہمارے ہیں۔ تمام شہدا کا درد ہم سے زیادہ آپ کو ہونا چاہیے تھا لیکن پتا نہیں سانحے کے فوری بعد حکومت نے آپ کو کون سا سن کر دینے والا ٹیکہ لگایا ہے کہ آپ کسی دکھ و درد کو محسوس ہی نہیں کر پا رہے اور بے احساس چہرے کے ساتھ مسلسل نمک پاشی کیے جا رہے ہیں۔

چوہدری محسن

5:49 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top