ایم ڈبلیو ایم مرکزی رہنما سید ناصر عباس شیرازی کا 72 گھنٹے کا الٹی میٹم: شہداء کے قاتلوں کو پکڑو، ورنہ حکومت دہشتگردوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیف آرگنائزر سید ناصر عباس شیرازی نے ترلائی کلاں جامع مسجد قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دہشتگرد حملے کے خلاف دھرنے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو 72 گھنٹوں کا سخت الٹی میٹم دیا ہے۔
سید ناصر عباس شیرازی نے کہا: "یہاں ہزاروں لوگ کھڑے ہیں، کیا یہاں سیکیورٹی ہے؟ ہسپتال کے اندر سیکیورٹی ہے؟ شہیدوں کو ان کی تکریم کے مطابق رخصت کیا جا رہا تھا یا صرف ان کے جسد خاکی دیکھے جا رہے تھے؟ زخمیوں کی ٹریٹمنٹ کے لیے جو انتظامات ہونے چاہیے تھے کیا وہ موجود تھے؟”
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا: "آپ نے وعدہ کیا تھا کہ 24 گھنٹوں میں جوڈیشل کمپلیکس قائم کریں گے اور دہشتگرد پکڑیں گے۔ ہم آپ کو بلکہ 72 گھنٹے دے رہے ہیں۔ ہم اپنے شہداء کے قاتلوں کو گرفتار ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر آپ سمجھیں کہ آپ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ہم آپ پر کسی قسم کا اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کا اسلام آباد مسجد خدیجۃ الکبریٰ دھماکے پر بیان: تکفیری دہشت گردی کی شدید مذمت
سید ناصر عباس شیرازی نے الزام عائد کیا کہ ایجنڈا اس سے بڑا ہے — ملک کو خون میں نہلانے کا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم ان شاء اللہ پورے پاکستان کو اور اس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشتگردوں کے مقابلے میں کھڑا کریں گے، ان کے ایجنڈے کو ناکام بنائیں گے اور شیعہ سنی یونٹی پیدا کریں گے۔ ایسے جعلی حکمرانوں کو جو عوام کے مروانے اور اپنے پروٹوکول پر توجہ دے رہے ہیں، گھر بھیج کر دم لیں گے۔”
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں اور ملک کی سالمیت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔







