سانحہ جامع مسجد خدیجتہ الکبریٰ اسلام آباد، تکفیری خودکش حملہ آور کی شناخت، اہل خانہ گرفتار

06 فروری, 2026 19:13

شیعیت نیوز: جامع مسجد خدیجتہ الکبریٰ اسلام آبادترلائی میں دوران نماز جمعہ ہونے والے دہشت گرد حملے میں ملوث تکفیری خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی، اہل خانہ گرفتار۔

‏سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد خودکش حملے میں ملوث مبینہ خودکش بمبار کی شناخت یاسر خان ولد بہادر خان کے طور پر کی گئی ہے، جو گنج محلہ قاضیان، پشاور کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یاسر خان نے مبینہ طور پر گزشتہ پانچ ماہ افغانستان میں گزارے جہاں اس نے بنیادی اسلحہ ہینڈلنگ اور خودکش حملوں کی تربیت حاصل کی۔

ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور یاسر خان ڈیڑھ برس قبل افغانستان سے پاکستان آیا تھا، تحقیقات جاری ہیں اور حکام کے مطابق تمام پہلوؤں کی مزید تصدیق کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملہ آور کے گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا ہے ۔ پشاور میں چھاپے کے دوران خودکش حملہ اور کی والدہ ، 2 بھائی گرفتارکیئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی حکومت کوسانحہ مسجد خدیجتہ الکبریٰ کےخلاف کسی بھی قسم کا احتجاج نہ کرنے کی یقین دہانی

جائے وقوعہ سے ملنے والے شناختی کارڈ کے مطابق 26 سالہ خودکش کی شناخت یاسر خان کے نام سے ہوئی۔پشاور اور نوشہرہ میں خودکش حملہ اور کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی تلاش شروع کردی، ذرائع

وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دھماکہ، خودکش حملہ آو ر نوشہرہ میں رہائش پذیر تھا۔پشاور میں خودکش حملہ آو ر کے رشتہ داروں کا پتہ چل گیاہے۔

‏خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خودکش حملہ آور ڈیڑھ سال قبل افغانستان سے واپس آیاتھا۔خودکش حملہ آور اسلام آباد اکیلا آیا ، فی الحال ہینڈلرز سے متعلق تحقیقات کی جارہی ہیں۔

 

5:12 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top