ترلائی دھماکہ: ریاست کی ناکامی، دہشت گرد اسلام آباد تک پہنچ گئے، چیک پوسٹس کہاں تھیں؟

06 فروری, 2026 10:04

شیعیت نیوز : اسلام آباد ترلائی دھماکہ: حکومت اور سیکورٹی اداروں کی ناکامی — دہشت گرد وفاقی دارالحکومت تک کیسے پہنچے؟

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے خوفناک خودکش دھماکے نے ایک بار پھر حکومت اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دھماکے میں اب تک 26 سے زائد افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب وفاقی دارالحکومت میں سیکورٹی کا سب سے سخت نظام نافذ ہے، راستے میں کئی چیک پوسٹس موجود ہیں، اور شہر کے اندراج پر سخت نگرانی ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ:

  • دہشت گرد اسلام آباد تک کیسے پہنچے؟
  • راستے میں کئی چیک پوسٹس اور شہر موجود ہونے کے باوجود یہ حملہ کیسے ممکن ہوا؟
  • کئی سالوں سے آپریشنز، ضرب عضب، رد الفساد اور دیگر کارروائیوں کے باوجود یہ "مٹھی بھر” دہشت گرد ختم کیوں نہیں ہوئے؟

حکومت اور سیکورٹی اداروں پر الزام ہے کہ ان کی توجہ اصل کام سے ہٹ کر سیاست میں مداخلت، سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور اقتدار کی حفاظت پر مرکوز ہے۔ جس شخص کو گرفتار کرنا ہو دوسرے ملکوں سے پکڑ لائے جاتے ہیں، جنگلوں سے برآمد کر لیتے ہیں، جس کو مروا نا ہو بیرون ملک مروا دیتے ہیں — مگر جب بات دہشت گردی اور عوامی تحفظ کی آتی ہے تو "مٹھی بھر” دہشت گرد 1980 سے آج تک لاکھوں مارنے اور لاکھوں آپریشنز کے باوجود ختم نہیں ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ترلائی امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ: 26 شہید، 30 سے زائد زخمی

یہ نہ صرف ایک سیکورٹی ناکامی ہے بلکہ ریاستی رٹ، حکومتی ترجیحات اور اداروں کی توجہ کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ اگر سیکورٹی فورسز اور ادارے اپنا اصل کام کریں، یعنی عوام کے جان و مال کی حفاظت، تو ملک محفوظ اور ترقی یافتہ ہو سکتا ہے۔

اس المناک سانحے میں شہدا کے اہل خانہ سے گہری تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا۔

3:03 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top