امام خمینیؒ کے اصولوں پر عمل کرکے کشمیریوں کو مضبوط کری، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

05 فروری, 2026 15:29

شیعیت نیوز : مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یوم کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی مظلوم قوم کی حقیقی مدد نعروں، جلوسوں اور وقتی جذباتی بیانات سے نہیں ہوتی، بلکہ اسے بااختیار بنانے سے ہوتی ہے۔

کشمیریوں کو اپنی جدوجہد آزادی میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ خودمختاری، عزت نفس اور آزادانہ فیصلہ سازی ہے، نہ کہ باہر سے مسلط کردہ قیادت یا ڈکٹیٹ کی گئی حکمت عملی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 فروری یوم شہادت راہ ولایت مظفر علی کرمانی، وہ نوجوان جس نے پاکستان کی مذہبی تاریخ میں قائدانہ کردار ادا کیا

امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی مدد کے لیے جو پانچ بنیادی اصول بیان کیے، وہ محض سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ قرآنی اصولوں سے ماخوذ ایک فطری، اخلاقی اور پائیدار راستہ ہیں۔ ان اصولوں کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی مظلوم قوم پر باہر سے قیادت مسلط نہ کی جائے بلکہ اس کی اپنی مقامی اور قدرتی قیادت کو ابھرنے کا موقع دیا جائے؛ اس کے ساتھ برادرانہ تعلق رکھا جائے، آقا اور تابع کا نہیں؛ اس کی توہین اور تحقیر سے مکمل اجتناب کیا جائے اور احترام و عزت کے ساتھ پیش آیا جائے؛ اسے محتاج بنانے کے بجائے اس حد تک مضبوط کیا جائے کہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے ڈکٹیٹ نہ کیا جائے بلکہ اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔

انہی اصولوں کی بنیاد پر لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں مظلوم اقوام نہ صرف مزاحمت کے قابل ہوئیں بلکہ باوقار، خوداعتماد اور مضبوط قوت بن کر ابھریں۔ اگر کشمیر کے لیے بھی حقیقی اور دیرپا حمایت مقصود ہے تو یہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ کشمیری عوام کو یہ نہ بتایا جائے کہ کب کیا کرنا ہے اور کس دن کون سا قدم اٹھانا ہے، بلکہ انہیں خود اپنی جدوجہد کی سمت متعین کرنے دی جائے۔

برہان وانی جیسے افراد اس لیے عوامی حمایت حاصل کر سکے کہ وہ باہر سے تھوپے گئے لیڈر نہیں تھے بلکہ کشمیر کی زمین سے ابھرنے والی فطری قیادت کی علامت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام دل و جان سے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ برادرانہ تعلق قائم رکھے، انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے، اور ان کی عزت نفس اور انسانی وقار کا ہر حال میں احترام کرے۔ کشمیریوں کو حکم نہیں، طاقت دی جائے؛ کنٹرول نہیں، اعتماد دیا جائے؛ اور نمائشی حمایت نہیں بلکہ حقیقی بااختیاری فراہم کی جائے۔

کیونکہ جب کوئی قوم خود کھڑی ہوتی ہے تو وہ صرف ظلم کا مقابلہ ہی نہیں کرتی، بلکہ اپنی آزادی خود رقم کرتی ہے، اور یہی قرآن کا اصول، تاریخ کا سبق اور کامیاب مزاحمت کا واحد راستہ ہے۔

1:31 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top