5 فروری یوم شہادت راہ ولایت مظفر علی کرمانی، وہ نوجوان جس نے پاکستان کی مذہبی تاریخ میں قائدانہ کردار ادا کیا
شیعیت نیوز : 5 فروری 2001 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں کالعدم سپاہ صحابہ / لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں نے مسجد سے نماز کے بعد گھر لوٹتے ہوئے شہید مظفر علی کرمانی اور ان کے ساتھی شہید نظیر عباس کو اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ آج 5 فروری 2026 ہے — یعنی ان شہداء کی شہادت کو درست 25 سال مکمل ہو چکے ہیں۔
شہید مظفر علی کرمانی کی ولادت اور ابتدائی زندگی مظفر علی کرمانی 1960ء میں کراچی کے ایک قدیمی علاقے کھارادر میں پیدا ہوئے۔ کھارادر کو جہاں بانی پاکستان کی جائے ولادت ہونے کا اعزاز حاصل ہے، وہیں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے ایک نوجوان نے پاکستان کی مذہبی تاریخ میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
مظفر کرمانی کا بچپن بھی ملک کے دیگر بچوں کی طرح روایتی انداز میں گزرا لیکن مذہبی گھرانہ میں پیدائش کے سبب ان کے اندر مذہبی رجحانات بچپن سے ہی محسوس کیے جا سکتے تھے۔ اس وقت جبکہ بچے کھیل کود میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں، آپ نماز و دیگر عبادات کی جانب مائل رہتے تھے۔
زمانہ طالب علمی میں آپ کے حسن اخلاق کے سبب طلباء اور اساتذہ آپ کو بے حد پسند کرتے تھے۔ وہ انتہائی ہنس مکھ اور پر مزاح شخصیت کے حامل تھے۔ اس لیے زمانہ طالب علمی میں ان کے دوستوں کی تعداد لا محدود تھی۔ مذہبی رجحان کے ساتھ ساتھ آپ کو عزاداری کا بھی بہت شوق تھا۔ اسکول کے زمانہ میں دوستوں کو جمع کرکے مجلس و ماتم برپا کیا کرتے تھے۔ اسکول کا زمانہ گزار کر جب آپ نے عالم شباب میں قدم رکھا تو اس وقت تک آپ کے مذہبی رجحانات مزید پختہ ہو چکے تھے۔
انقلاب اسلامی سے وابستگی یہ وہ زمانہ تھا جب پڑوسی ملک ایران میں انقلاب کروٹیں لے رہا تھا، لیکن پاکستان میں لوگ اس سے آگاہ نہیں تھے۔ تاہم مظفر کرمانی اس انقلاب کو اپنے اندر محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کسی معصوم کے سچے پیروکار کی طرح امام خمینیؒ کے افکار اور نظریات کی پختگی سے اسلام کو سمجھا۔
شہید مظفر علی کرمانی انقلاب سے قبل امام امت امام راحل کے مقلد تھے۔ مظفر کرمانی کے عشق کا یہ عالم تھا کہ وہ امام خمینیؒ کے ہر حرف کو حرف آخر سمجھتے تھے۔ اس زمانہ میں امام خمینیؒ کی معرفت بہت کم افراد کو تھی مگر مظفر کرمانی نے خود کو امام خمینیؒ کی ذات میں گم کر دیا تھا۔
آپ نے خط امام پر چلنے اور ولایت سے مربوط ہونے کو تشیع کی نجات کا ذریعہ قرار دیا۔
ادھر ایران میں امام خمینیؒ کی تحریک خوب پروان چڑھ رہی تھی اور ادھر پاکستان میں امریکی سازشیں عروج پر تھیں۔ امریکہ ایران میں شہنشاہیت برقرار رکھنے کے لیے بری طرح ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ اس نے ایران میں انقلاب کے قدموں کی آہٹ محسوس کر لی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ پڑوسی ممالک اس افتاد سے محفوظ رہیں۔ اسی لیے پاکستان میں ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمر ضیاء الحق کو اقتدار پر براجمان کرا دیا گیا۔ اب پاکستان میں امام خمینیؒ کی حمایت میں کسی بھی تحریک کو روکنے کے لیے انتظامیہ کو فری ہینڈ مل گیا۔
لیکن کراچی میں لوگوں کو اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب 13 رجب کے جلوس میں ایک جوان نے اچانک رضا شاہ پہلوی مردہ باد اور شہنشاہ ایران مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ یقیناً یہ کام کسی عام نوجوان کے بس کی بات نہیں تھی۔ یہ وہی کر سکتا تھا جسے امام خمینیؒ کی سچی معرفت حاصل ہو اور کراچی میں مظفر کرمانی ان چند افراد میں شامل تھے جنہیں معرفت امام حاصل تھی۔
مظفر کرمانی کے اس عمل سے شہنشاہ کے حامیوں نے مظفر کو زد و کوب کیا جس کے سبب جلوس انتشار کا شکار ہو گیا۔ صرف یہی نہیں جب صدام نے انتہائی ظالمانہ انداز میں آیت اللہ باقر الصدر اور ان کی خواہر بنت الہدیٰ کو شہید کرایا تو مظفر کرمانی اپنے چند ساتھیوں کو جمع کر کے ریگل چوک پہنچ گئے تاکہ صدام اور رضا شاہ پہلوی کے اس ظلم پر صدائے احتجاج بلند کیا جائے۔ پاکستان میں صدام اور شہنشاہ ایران کے خلاف یہ پہلا منظم مظاہرہ تھا جس میں 70 سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا اور پولیس تشدد کا بھی نشانہ بنے۔ پولیس کی مار کھانے والوں میں مظفر کرمانی بھی شامل تھے۔
شہید مظفر پاکستان میں اسلامی انقلاب کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈہ کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے انہوں نے ہر موقع پر لوگوں کو انقلاب کی حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا۔ آپ نے بارہا لوگوں پر واضح کیا کہ میری امام خمینیؒ یا انقلاب سے وابستگی شیعہ مسلک کے سبب نہیں بلکہ اسلام کے باعث ہے۔ مظفر کرمانی امام خمینیؒ سے والہانہ محبت کے سبب ان کے ہر پیغام کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے تھے۔
استعمار کے اشارے پر جب عراق نے ایران پر جنگ مسلط کی تو مظفر کرمانی افسردگی و غم میں ڈوب گئے۔ انہوں نے حکومت اسلامی کی حمایت میں مظاہرے منظم کیے اور لوگوں کو انقلاب کے خلاف ہونے والی طاغوتی سازشوں سے آگاہ کیا۔ ان کی اپنی کاوشوں کے باعث کھارادر منی ایران کہلانے لگا۔ آپ نے اپنے ساتھی نوجوانوں کو اور تربیتی پروگراموں میں ہمیشہ انقلاب اسلامی کی حمایت کرنے اور اس کے تحفظ کی تائید کی۔
امام خمینیؒ کی رحلت مظفر کرمانی کے لیے صدمہ عظیم سے کم نہیں تھی۔ انہوں نے ملت اسلامیہ کو پہنچنے والے اس عظیم نقصان سے آگاہ کرنے کے لیے پورے کراچی میں جلوسوں اور مجالس کا انعقاد کیا۔ رحلت کے موقع پر ایم اے جناح روڈ پر نکلنے والی عظیم الشان ریلی ذرائع ابلاغ کے لیے حیرت کا سبب بن گئی۔
- امام کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے یوم القدس اور ہفتہ وحدت کا انعقاد کیا۔*
آپ نے جس طرح زندگی میں امام خمینیؒ کے افکار کو عام کیا اس طرح ان کی رحلت کے بعد اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ منبروں سے انقلاب اسلامی کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈہ کو ناکام بنایا۔ انقلاب کے مخالفین کی منبروں تک رسائی ناممکن بنائی۔
تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں فعالیت شہید مظفر پاکستان میں امام خمینیؒ اور اسلامی انقلاب کے حامی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ضیاء الحق کے اسلام امریکائی کے خلاف شیعہ اکابرین نے اسلام کے تحفظ کے لیے 13 اپریل 1978ء کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ قائم کی تو مظفر کرمانی ان چند افراد میں سے تھے جنہوں نے مفتی جعفر کی قیادت پر اعتماد کا اعلان کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مظفر کرمانی نے سیاست الٰہی کے میدان میں قدم رکھا۔ اس وقت کراچی میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا کوئی باقاعدہ ڈھانچہ تشکیل نہیں پایا تھا مگر اس کے باوجود مظفر کرمانی سیاسی جدوجہد میں پیش پیش تھے۔ ایک تو شیعہ اکابرین ملت تشیع کے حقوق سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے میں مصروف تھے اور ادھر ضیاء الحق نے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس کے ذریعے ملت جعفریہ کی پریشانیوں کو دو چند کر دیا۔ جس کے بعد علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم نے 6 جولائی 1980ء کو اسلام آباد میں شیعہ قومی کنونشن کا اعلان کر دیا۔ ملک بھر میں مفتی جعفر مرحوم کے اس اعلان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔ مظفر علی کرمانی نے اس کنونشن کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیئے۔ انہوں نے قائد ملت جعفریہ کے پیغام کو کراچی کے کونے کونے میں پہنچایا۔ کراچی سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو لے کر اسلام آباد پہنچے تاکہ اجتماعیت کا عملی مظاہرہ ہو سکے۔ اس عظیم الشان قومی کنونشن کے نتیجے میں ضیاء الحق قوم کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ اس کنونشن کے دوران مظفر کرمانی کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مظفر کرمانی نے خود کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے مربوط کر لیا۔
29 اگست 1983ء کو مفتی جعفر حسین کی رحلت کے بعد جب 10 فروری 1984ء کو علامہ عارف حسین الحسینی کے قائد ملت جعفریہ بننے کا اعلان ہوا تو اسلام پسند دیگر نوجوانوں کی طرح مظفر کرمانی نے بھی انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ وہ مفتی جعفر کے بعد پیدا ہونے والی قیادت کے تنازعہ سے انتہائی متفکر رہتے تھے۔ اسی لیے علامہ عارف کا اعلان قیادت ان کے لیے خوشی کا پیغام لے کر آیا۔ مظفر کرمانی نے مملکت خداداد پاکستان میں انقلاب اسلامی کے لیے جدوجہد کا تجدید عہد کیا اور قائد شہید کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے ہدف کی طرف گامزن ہو گئے۔ قائد شہید کے دورہ کراچی کا اعلان ہوا تو اس کے انتظامات کی ذمہ داری بھی مظفر کرمانی نے سنبھال لی۔ یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ قائد شہید کو کراچی میں بھرپور طور پر متعارف کرانے کا سہرا بھی مظفر کرمانی کے سر ہے۔ وسائل نہ ہونے کے باوجود مظفر کرمانی نے قائد شہید کا کراچی پہنچنے پر شاندار استقبال کرایا۔ قائد شہید کو ایک بڑے جلوس کی شکل میں کھارادر سے محفل حسینیہ ایرانیان تک لے جایا گیا جہاں قائد نے بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ مظفر کی عقیدت اور خلوص کی بدولت مظفر کرمانی قائد شہید کے منظور نظر بن گئے اور دونوں میں قریبی رفاقت قائم ہو گئی۔ ابتدائی ایام میں علماء سے زیادہ غیر علماء نے شہید عارف کا ساتھ دیا۔ ان میں سے ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید اور مظفر کرمانی شہید صف اول میں تھے۔ مظفر کرمانی بظاہر تو تحریک کے ضلع جنوبی کے صدر تھے مگر اپنی فعالیت کے باعث کراچی میں تحریک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے تحریک کے لیے مالی وسائل کا اہتمام کیا۔ وہ صاحب ثروت افراد سے ملاقاتیں کرکے انہیں ان کی مذہبی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے تھے۔ مظفر کرمانی قائد شہید سے تنظیمی وابستگی سے قطع نظر ذاتی عقیدت بھی رکھتے تھے۔ یہ محبت نہیں تھی وہ اسلام میں ضم ہونے کے باعث علامہ عارف کے گرویدہ تھے۔ پاکستان میں تشیع کی بڑی تعداد قائد شہید کی شہادت تک انہیں پہچان نہ سکی تھی مگر مظفر کرمانی کی بصیرت افروز نگاہیں اپنے قائد کو پہچان چکی تھیں۔ علامہ عارف کے ہر دورہ کراچی کا نہ صرف انتظام مظفر کرمانی کی جانب سے ہوتا بلکہ مالی وسائل کی کاوشوں کے اعتراف میں قائد نے انہیں خازن مقرر کر دیا۔ کراچی میں تحریک کی جان تھے۔ ان کے بغیر کوئی پروگرام مکمل نہیں تھا۔ وسائل کے بغیر بڑی سے بڑی ذمہ داری لینا ان کا خاصہ تھا۔
علامہ عارف حسینی نے 19 دسمبر 1984ء کو ہونے والے ضیاء الحق کے ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو کراچی میں قائد کے فرمان پر عمل در آمد کی ذمہ داری مظفر کرمانی نے سنبھال لی۔ مظفر کرمانی کی کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں بھی ملت جعفریہ نے خود کو ضیاء الحق کے صدارتی ریفرنڈم کے ڈرامہ سے علیحدہ رکھا۔ تنظیم کو فعال بنانا ان کی ترجیح تھی۔ کبھی اپنے مفادات کو مدنظر نہیں رکھا۔ اپنی ذاتی کوششوں سے کراچی میں تحریک کو عالیشان دفتر قائم کرنے میں مدد دی۔
5 اگست 1988ء کو قائد کی شہادت کی خبر مظفر کرمانی پر بجلی بن کر گری۔ انہوں نے اسے ملت کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ آپ کی خواہش تھی کہ کسی طرح شہید کے چاہنے والے شہید کے جنازہ میں شریک ہو جائیں اور اس سلسلے میں بھی انہیں تائید غیبی حاصل ہوئی جب حمید بھوجانی کی مدد سے وہ کراچی تا راولپنڈی طیارہ اسپانسر کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ آپ کو قائد شہید کی جدائی کا اتنا رنج تھا کہ 13 سال گزرنے کے باوجود آپ کا غم ختم نہیں ہوا۔ قائد شہید کا ذکر سنتے ہی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ انہوں نے ہر سال 21 ذی الحجہ کو قائد کے مرقد پر قافلہ لے جانے کی روایت ڈالی۔ اس طرح انہوں نے قائد کی شہادت کے ہجری تاریخ کو بھی زندہ رکھا۔ مرقد پر پہنچ کر آپ شہید قائد کی قبر سے لپٹ کر ایسے روتے تھے جیسے کوئی بچہ اپنی ماں سے بچھڑ کر روتا ہے۔ مظفر کرمانی نے شہادت تک اس سلسلے کو جاری رکھا۔
قائد شہید کی شہادت کے بعد ان کے آثار جمع کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا تو اس وقت بھی مظفر کرمانی صف اول میں نظر آئے۔ آثار کی جمع آوری اور اس کے لیے وسائل کا اہتمام مظفر کرمانی کا اہم کارنامہ ہے۔
علامہ عارف کے بعد تحریک اختلافات کا شکار ہوئی تو مظفر معاملات سلجھانے کی کوشش میں مصروف رہے۔ اسی دوران الیکشن میں حصہ لے کر مخالفین کو قائل کیا۔
انہوں نے تحریک کے پلیٹ فارم سے سندھ اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔ اہل زبان نہ ہونے کے باوجود بھرپور الیکشن مہم چلائی۔ وہ جانتے تھے کہ کامیابی نہیں ہوگی۔ ملت کا تشخص اجاگر کرنے کے لیے یہ فریضہ بھی انجام دیا۔ دوران الیکشن اہل سنت نے نفاذ فقہ جعفریہ پر اعتراض کیا تو انہوں نے بڑے عالمانہ انداز میں اس اعتراض کو دور کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک جعفریہ کا مقصد یہ نہیں کہ ہم پورے ملک میں فقہ جعفریہ کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ہم اہل تشیع کے لیے جعفریہ اور برادران اہل سنت کے لیے ان کی فقہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 1992ء میں علامہ جوادی کی سندھ کی صدارت سے علیحدگی تحریک کے اختلافات کا اہم ترین مرحلہ تھا۔ اس موقع پر مظفر کرمانی نے نہایت سرگرمی سے دونوں گروپوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ علامہ ساجد نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ کا مقدمہ بڑی کامیابی سے پیش کیا اور تحریک کے دستور کی بعض خامیوں کی نشاندہی کی۔ تاہم تحریک کی قیادت سے نظریاتی اختلافات کے باعث مظفر کرمانی نے باقاعدہ طور پر تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی۔ لیکن تحریک چھوڑنے کے بعد ان کی فعالیت کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی۔ اب انہوں نے اپنے لیے ہدف کا تعین کر کے نوجوانوں کی تربیت کا بیڑا اٹھا لیا۔ تن تنہا اور وسائل کے بغیر ایک بڑے مقصد کی طرف بڑھنا دراصل مظفر جیسے مضبوط قلب کے انسان کا کام تھا۔
اسلام ناب محمدی کے احیاء کی کوششیں مظفر کرمانی شخصیت پرست نہیں اسلام پرست انسان تھے۔ امام خمینیؒ اور علامہ عارف سے ان کی وابستگی بھی اسلام کی بدولت تھی۔ ان کا اصل ہدف اسلام ناب محمدیؐ کا احیاء تھا۔ اس کے لیے انہوں نے ملت کے نوجوانوں کو منتخب کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ملت کے نوجوان اسلامی رنگ میں رنگ گئے تو پھر ملک میں انقلاب امام زمان عج کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ انہوں نے نوجوانوں کی نظریاتی و انقلابی سوچ کے لیے دروس کا اہتمام شروع کیا۔ اسلام کے حوالے سے ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسی لیے مخالفین کو بڑی خوبی سے قائل کر لیتے تھے۔ مظفر نے نوجوانوں کی تربیت کا جو دشوار گزار سفر شروع کیا تھا وہ دراصل تنظیموں کی ذمہ داری ہے مگر تنظیموں کی عدم فعالیت کے سبب انہوں نے یہ بار گراں اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا لیا۔ نوجوانوں کی فکری تربیت اور معاشرہ سازی کا یہ سلسلہ انہوں نے انفرادی سطح پر کافی عرصے جاری رکھا مگر باقاعدہ منظم نہ ہونے کے سبب مظفر اس کام میں دشواری محسوس کرنے لگے۔ ایسے میں ضرورت تھی کہ باقاعدہ کسی پلیٹ فارم یا ادارہ کے تحت اس کام کو انجام دیا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے بقیۃ اللہ اسلامک انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد ڈالی۔ اس ادارہ کے تحت انہوں نے ایسے سطحی اور بنیادی موضوعات پر سیمینار کا سلسلہ شروع کیا جن پر اس سے قبل بات نہیں کی جاتی تھی۔ سیمینار کے ذریعے فکری و نظریاتی نشو و نما سے ان کے جانثاروں اور نظریاتی ساتھیوں کا حلقہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ آج نہ صرف کراچی بلکہ سیالکوٹ، کوئٹہ اور اسلام آباد اور بیرون ملک میں سیمینارز کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ وہ بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو اچھے پیامبر سمجھتے تھے۔ اسی لیے 1998ء میں دبئی میں سیمینار کا سلسلہ شروع کیا۔ بعد ازاں شارجہ، ابوظہبی، دارلاسلام اور ٹورنٹو میں کامیاب فکری نشستیں منعقد کیں۔ ان کی نظر میں اسلام اور نظریہ ولایت فقیہ مقدم تھا۔ اسی لیے ولایت فقیہ کے لیے کام کرنے والی ہر تنظیم ان کی منظور نظر ہوتی تھی۔ ان تنظیموں کی کہیں مالی، کہیں عملی اور کہیں افراد کی صورت میں مدد فراہم کی۔ شخصیت پرستی سے اجتناب کرتے ہوئے سیمینارز میں ایسے علماء متعارف کروائے جو اپنے موضوعات پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔ اسلام ناب محمدیؐ کے احیاء کے لیے جہاں انہوں نے سیمینارز کا سلسلہ شروع کیا وہیں انہوں نے میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس شعبہ میں قدم رکھ دیا۔ وہ ملت تشیع کے اس شعبہ میں بے انتہا پیچھے ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کو شعبہ کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کرتے رہتے تھے اور انتہائی دردمندانہ انداز میں اپنے ساتھیوں کو اس ذمہ داری کو اپنے مضبوط کاندھوں پر اٹھانے کے لیے آمادہ کرتے تھے۔ دن رات کی کوششوں اور ساتھیوں کی بھرپور مدد کے باعث انہوں نے ماہنامہ نوائے اسلام کی بنیاد ڈالی جو بعد میں ہفت روزہ میں تبدیل ہو گیا۔ آپ نے اپنی شہادت تک اس ادارہ کی سرپرستی کے فرائض انجام دیئے۔ وہ نوائے اسلام کو روزنامہ کرنے کے خواہشمند تھے مگر دشمنوں نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی۔
شہید کی جانب سے اسلام ناب محمدیؐ کے لیے منعقد کیے جانے والے سیمینارز پر ایک نظر ۱۔ دین فقط اسلام ہے ۲۔ اسلام اور سائنس ۳۔ قرآن کے اجتماعی احکام ۴۔ Role of Muslim Countries in the new world order ۵۔ اثبات وجود خدا کی دلیلیں ۶۔ Comparative analysis of islam & materialistic western Culture ۷۔ فرقہ واریت ۸۔ شفاعت ۹۔ ولایت فقیہ ۱۰۔ امام حسینؑ قربان غدیر ہیں ۱۱۔ سیرت نبیؐ ۱۲۔ فلسفہ عزاداری ۱۳۔ The Historical Background and Political Structure of Pakistan ۱۴۔ آفاتِ دین ۱۵۔ فلسفہ قیام امام حسینؑ ۱۶۔ اصول دین کے معاشرتی اثرات ۱۷۔ Research Analysis of Islamic Ruling System ۱۸۔ امامت و امت ۱۹۔ توحید
آگے کی اقساط میں مندرجہ ذیل عناوین ملاحظہ فرمائیے۔
سماجی کام مظفر کرمانی ایک خدا پرست اور انتہائی رحم دل انسان تھے یعنی جیسے حضرت علیؑ کا وہ قول جو آپؑ نے حضرت ابوذرؑ کے لیے فرمایا تھا ”کہ ابوذر مومنوں کے لیے مہربان ہیں اور دشمن کے سامنے فولاد اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے“۔ شہید پر انتہائی صادق آتا تھا۔ یہ راز تو ان کی شہادت کے بعد عیاں ہوا کہ کئی گھرانوں کی کفالت کرنے والا شخص دراصل مظفر علی کرمانی تھا۔ الغرض کسی کے چھوٹے سے چھوٹے معاشی یا ذاتی مسئلہ ہو یا پھر ملت کا اجتماعی مسئلہ آپ آگے آگے نظر آتے۔ عجب ہے کہ سب نے دیکھا کہ جس کو کسی زمانے میں اسکول کی فیس ادا نہ کرنے پر خود اسکول سے نکال دیا ہو وہ دوسرے طالب علموں کی مالی امداد کا ذریعہ بنتے تھے۔ گلگت کے فسادات اور لشکر کشی کے باعث متاثر ہونے والوں کی امداد کے لیے انہوں نے بھرپور طریقہ سے امداد جمع کرکے روانہ کی۔ 1983ء کے کراچی کے فسادات کے متاثرین ان کی کاوشوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران ملت کے سینکڑوں افراد مذہبی دہشت گردی کا نشانہ بنے مگر جب کوئی تنظیم ان شہداء کے لواحقین کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی مظفر کرمانی نے سرمایہ دار یا ثروت مند نہ ہونے کے باوجود اپنی حتی المقدور کوشش کی کہ شہید کے پسماندگان کو مالی امداد فراہم کی جائے۔ مظفر اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھے۔ انہیں ہر لمحہ قوم کی فکر رہتی تھی۔ لیکن ان کی فکر صرف پاکستان کے شیعوں تک محدود نہیں تھی۔ وہ وسیع تناظر میں دیکھنے اور بین الاقوامی سوچ رکھنے والی شخصیت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں ایران میں زلزلہ سے ہونے والی تباہی نے انہیں متفکر کر دیا اور انہوں نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایران کے متاثرین کے لیے امداد جمع کی۔
ملت کی انہوں نے ایک بڑی خدمت تحریک جعفریہ کے اغوا کنندگان کو ڈاکوؤں کے نرغے سے آزاد کرکے کی۔ 25-26 نومبر 1990ء میں تحریک جعفریہ کے کنونشن سے شرکت کے بعد قافلہ واپس آرہا تھا کہ اسے دادو کے مقام پر اغوا کر لیا گیا۔ ان حالات میں جبکہ ملت کے اکابرین مغویوں کی بازیابی کی ذمہ داری سے کنارہ کش ہو گئے مظفر کرمانی نے تن تنہا یہ فریضہ انجام دیا۔ انہوں نے وقار نقوی ایڈوکیٹ شہید اور آغا قنبر عباس کے ساتھ مل کر سیہون، خیرپور اور دادو کی خاک چھانی جہاں سے اطلاع ملتی تھی مظفر وہیں پہنچ جاتے تھے۔ مظفر دادو میں قیام کے دوران راتوں کو جنگلوں میں چلے جاتے تھے تاکہ ڈاکوؤں سے کوئی رابطہ قائم ہو اور کوئی بات بن جائے۔ انتھک محنت اور جدوجہد کے بعد آخر کار ملت کے اس شیر دل شخصیت نے ڈاکوؤں کا پتہ ڈھونڈھ ہی نکالا۔ بعد ازاں تاوان کا مطالبہ سامنے آیا تو مظفر بھائی نے یہ فریضہ بھی خوش اسلوبی سے انجام دیا، اور اس کام کے لیے فوری رقم کا بندوبست کرنے کے لیے اپنے گھر کو بھی گروی رکھ دیا۔ بالآخر ان کی کئی دن رات کی کوششیں رنگ لائیں اور مغوی آزاد ہو گئے۔ ان کی کوششوں میں مرحوم شیخ علی مدد اور مرحوم شیخ غلام اصغر نجفی (سیہون شریف) نے بھی مظفر کرمانی کی بہت معاونت کی۔ رہائی کے فوراً بعد علامہ حسن ترابی کا مظفر کے پاس پہنچنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا ان کی کوششوں کا اعتراف ہے۔
علامہ ساجد نقوی کے سامنے جب ایک اجلاس میں بعض افراد اپنی جدوجہد کے دعوے کر رہے تھے اس موقع پر شہید علامہ حسن ترابی نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ”آج یہ پھول کے ہار جو ہمارے گلے میں موجود ہیں اگر مظفر علی کرمانی نہ ہوتے تو یہ ہار ہماری قبر پر ہوتے“۔
یہ چند ایک سماجی کام ہیں جن کا ذکر یہاں ہم نے مختصر طور پر اپنے قارئین کے لیے پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایسی داستانیں جیسے کہ اپنے آقا و مولا علیؑ کی پیروی کرتے ہوئے شہدا و فقرا کے گھر جا کر ان کے لواحقین کو تسلی دینا، ان کا غم بانٹنا، ان کی مالی مشکلات کو ان کی آبرو و عزت نفس کو حفظ کرتے ہوئے حل کرنا — یہ سب داستانیں اس شہید بزرگوار کے ساتھ ہی اس دنیا سے اس دنیا کی طرف منتقل ہو گئیں۔
یقیناً خدا نے اپنے اس شیر دل ابوذر زمان کو اپنے آقا امیرالمومنینؑ کے ساتھ محشور کیا ہوگا۔
اللّٰھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجہم رحمۃ اللہ علیہ و علی جمیع شہداء الحق
سلام بر شہید راہ ولایت مظفر علی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ







