غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت نظریۂ پاکستان اور قائد اعظمؒ کے مؤقف کی صریح خلاف ورزی ہے، علامہ آغا سید محمد باقر الحسینی
شیعیت نیوز: انجمن امامیہ بلتستان پاکستان کے صدر علامہ آغا سید محمد باقر الحسینی نے موجودہ حکومت کی جانب سے غزہ امن بورڈ (Peace Board Gaza) میں شمولیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے نظریۂ پاکستان اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے واضح اور اصولی مؤقف کے سراسر منافی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں علامہ آغا سید محمد باقر الحسینی نے کہا: قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1948ء میں غاصب صیہونی ریاست کے قیام کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اسرائیل کا وجود عالم اسلام کے سینے میں خنجر کے مترادف ہے اور پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ آج حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے اقدامات کرنا قائد اعظمؒ کے نظریے سے صریح انحراف کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کو صرف سامنے نہیں بلکہ اس کے تھنک ٹینک اور اصل منصوبہ ساز مرکز میں دیکھیں، حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کھلی خیانت اور قبلۂ اول بیت المقدس کے تقدس پر سمجھوتے کے برابر ہے۔ پاکستان کا حقیقی تشخص مظلوموں کی حمایت، حق و انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے اور غاصب صہیونیت کی کھلی مخالفت میں مضمر ہے۔
علامہ آغا سید محمد باقر الحسینی نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ وہ قائد اعظمؒ کے اصولی مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے فلسطین کے مسئلے پر ایک واضح، جرأت مندانہ اور امت مسلمہ کے جذبات کے مطابق پالیسی اختیار کرے اور کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہے جو ملت اسلامیہ کے احساسات کو مجروح کرے۔
یہ بیان گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے شیعہ برادری میں زیر بحث ہے اور متعدد دینی و سیاسی حلقوں نے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔







