قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصرعباس کی ایمان مزاری وہادی علی ایڈوکیٹ کیساتھ دوران حراست غیر انسانی سلوک کی مذمت

24 جنوری, 2026 19:26

شیعیت نیوز: سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان وقائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اڈیالہ جیل میں زیرِ حراست انسانی حقوق کی کارکن ایمان حاضر مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ غیر انسانی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے،انہوں نے کہا ہے کہ زیرِ حراست افراد کو خوراک اور پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ یہ آئینِ پاکستان، جیل قوانین اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، قید کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں کرتی اور ریاست ہر حال میں اس بات کی پابند ہے کہ وہ قیدیوں کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق سلوک کرے۔

یہ بھی پڑھیں : تشیعِ پاکستان کا سیاسی سفر: تحریک جعفریہ سے مجلس وحدت مسلمین تک

انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات ریاستی اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور قانون کی حکمرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہیں، قائد حزب اختلاف نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام زیرِ حراست افراد کو ان کے آئینی و قانونی حقوق بلا رکاوٹ فراہم کیے جائیں، اختلافِ رائے اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا جرم نہیں، اور ایسے ہتھکنڈے جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں، ریاست کو چاہیے کہ وہ طاقت کے بجائے قانون، انصاف اور انسانی وقار کے اصولوں پر عمل کرے۔

2:26 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top