پاکستان نےامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی

22 جنوری, 2026 15:33

شیعیت نیوز: پاکستان نےامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے غزہ میں دیرپا امن کے حصول کی خاطر بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے۔ پاکستان امید کرتا ہے کہ اس فریم ورک کی تشکیل سے مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا، بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپورحمایت کا اعادہ بھی کیا۔

ٹرمپ کا غزہ بورڈ آف پیس کیا ہے؟
غزہ بورڈ آف پیس امریکی صدر ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن منصوبے کے 20 نکاتی پروگرام کا مرکزی حصہ ہے۔ امریکی صدر نے اسے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹرمپ اقوام متحدہ کا متبادل ادارہ وجود میں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد ابتدائی طور پر غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور وہاں تعمیرِ نو کے عمل کی نگرانی کرنا بتایا گیا ہے، لیکن اس کے عزائم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بظاہر بورڈ کے قیام کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے بعد کے معاملات، جیسے سیکیورٹی کی بحالی، انتظامی امور کی نگرانی، اور تعمیرِ نو کے لیے فنڈز کا انتظام کرنا ہے۔ ٹرمپ نے اسے اقوامِ متحدہ (UN) کے ایک متبادل یا زیادہ مؤثر ادارے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے زیادہ واضح اقدامات کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:

اس بورڈ کا چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ خود تاحیات چیئرمین ہوں گے، وہ صدر کے عہدے سے فارغ ہونے کے باؤجود بھی بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ میں شامل ہونے کیلئے دنیا بھر کے تقریباً 60 رہنماؤں کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے یہ اس اس بورڈ کی مستقل رکنیت کیلئے ممالک سے 1 ارب ڈالر کی رقم طلب کی گئی ہے، جبکہ بغیر فیس کے رکنیت صرف 3 سال کے لیے ہو گی۔ بورڈ کے ایگزیکٹو حصے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹولی بلیئر، ورلڈ بنک کے صدر اجے بانگا، ٹرمپ کے داماد اور سابق مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک تقریباً 25 ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ 20 سے زیادہ، بلکہ ممکنہ طور پر 25 عالمی رہنماؤں نے اس منصوبے کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مجموعی طور پر 60 ممالک کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

اب تک جن ممالک نے بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہے ان میں پاکستان، عرب امارات، اسرائیل،بحرین، مصر، مراکش، قطر شامل ہیں جبکہ دیگر ممالک میں ہنگری، کینیڈا، ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ویتنام، کوسوو اور بیلاروس بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا نے شمولیت کی دعوت تو قبول کی ہے لیکن فیس دینے سے انکار کیا ہے۔ بعض ممالک نے ٹرمپ کی دعوت کو مسترد بھی کیا ہے ان میں فرانس اور ناورے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے اسے بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دے کر مسترد کیا ہے۔ بھارت اور چین نے تاحال اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا، یوکرین نے اس بورڈ میں روس کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

2:36 صبح مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top