قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصرعباس کی پہلی دھواں دہارتقریر،عمران خان کی رہائی کا مطالبہ، ٹرمپ کی مخالفت اور آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت
شیعیت نیوز: اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کے بعد سینیٹ میں اپنے پہلے جامع خطاب میں سینیٹرعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پاکستان میں نیشن بلڈنگ، مؤثر گورننس اور عالمی سطح پر طاقت کے زعم میں مبتلا قیادت کے خلاف واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیاانہوں نے کہا کہ آج عمران خان ایک مقبول سیاسی رہنما ہیں اور نیشن بلڈنگ کے عمل میں عوامی تائید رکھنے والی قیادت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہےقومیں اسی وقت بنتی ہیں جب عوام اپنے رہنما پر اعتماد کریں اور خود کو ایک مشترک مقصد کے ساتھ وابستہ محسوس کریں ان کے مطابق یہی وہ پہلا اور بنیادی مرحلہ ہے جس کے ذریعے ایک مضبوط قوم وجود میں آتی ہے ۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے واضح کیا کہ نیشن بلڈنگ صرف نعروں سے نہیں بلکہ ڈیلیور کرنے سے ہوتی ہے، یعنی مؤثر گڈ گورننس سے جب ریاست شہریوں کو انصاف، سہولتیں اور مساوی مواقع فراہم کرتی ہے تو قوم مضبوط ہوتی ہے انہوں نے تعلیم کو نیشن بلڈنگ کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسا نصاب چاہیے جو جوڑے، تقسیم نہ کرے؛ نفرت نہیں بلکہ شعور پیدا کرے اور فرق کے بجائے وحدت سکھائے۔
اپوزیشن لیڈر نے علاقائی عدم مساوات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایک علاقے میں ترقی ہو اور دوسرے علاقوں میں غربت، بے روزگاری اور پسماندگی رہے تو محرومی جنم لیتی ہے پھر بلوچستان، سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے عوام یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارا حق نہیں مل رہا ایسی صورتحال میں قوم تشکیل نہیں پاتی بلکہ بداعتمادی اور نفرتیں پھیلتی ہیں۔
انہوں نے پاکستان کو مختلف زبانوں، ثقافتوں اور رنگوں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس گلدستے کو مؤثر گورننس، عدل و انصاف، بہتر ڈیلیوری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے ہی جوڑا جا سکتا ہے اسی راستے سے محرومیاں ختم ہوں گی اور قومی یکجہتی فروغ پائے گی ان کا کہنا تھا کہ اگر قوم مضبوط نہیں ہوگی تو حکومت بھی مضبوط نہیں ہو سکتی، کیونکہ قوم، حکومت اور ریاست ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
خطاب کے دوسرے حصے میں راجہ ناصر عباس جعفری نے عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ ٹرمپ یہ کہتا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہے، وینزویلا کے وسائل پر ہاتھ ڈالنے کی بات کرتا ہے اور کھلے عام ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ترجمان جعفریہ الائنس پاکستان کی علامہ سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس کو قائد حزب اختلاف مقرر ہونے پرمبارکباد
انہوں نے ایوان کے ذریعے سوال اٹھایا:“تم ہوتے کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو کہ قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرو گے؟ کون سا قانون، کون سا اخلاق اور کون سا بین الاقوامی ضابطہ تمہیں یہ حق دیتا ہے؟اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت طاقت کے نشے میں مبتلا افراد نہیں بلکہ دانشمند اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے دھونس، دھمکی اور جارحیت کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست اور خطے کا ایک اہم ملک ہے، اور ایسے نازک اور خطرناک بین الاقوامی معاملات پر خاموش رہنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ان کے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان معاملات پر سنجیدہ اور بامقصد کردار ادا کرے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے تجویز دی کہ پاکستان کو ہمسایہ ممالک کا ایک اجلاس بلانا چاہیے تاکہ خطے میں امن، خودمختاری اور باہمی احترام کے اصولوں کا مشترکہ طور پر دفاع کیا جا سکے انہوں نے خطاب کے اختتام پر کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم طاقت کی زبان کے مقابلے میں عقل، قانون اور مکالمے کی زبان کو آگے بڑھائیں، کیونکہ پائیدار امن اور مضبوط قوم اسی راستے سے ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سید علی حسینی خامنہائ جو رسولِ پاک ﷺ کی اولاد میں سے ہیں۔ جو اسلامی انقلاب کے عظیم رہبر ہیں، اس وقت تقریباً 86–87 سال کے ہیں۔ ان کے اندر سیدہ فاطمہؑ کا خون ہے، مولا علیؑ اور امام حسینؑ کا خون ہے۔ وہ بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ وہ میدان میں ڈٹے رہیں گے، کیونکہ امام حسینؑ بھی کبھی میدان چھوڑ کر نہیں بھاگے تھے، اور یہ بھی نہیں بھاگیں گے،وہ اس زمانے کے فرعونوں کا مقابلہ کریں گے۔ لہٰذا ان کا مقابلہ کرنا دراصل پاکستان کا بھی دفاع ہے۔ ایک ایسی دیوار قائم ہو چکی ہے جو پاکستان کے لیے بھی حفاظتی کردار ادا کر رہی ہے۔







