لسبیلہ میں جشن مولود کعبہ کی ریلی پر پابندی، دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود تکفیریوں کو ریلی کی کھلم کھلا اجازت
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین جنوبی بلوچستان نے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود تکفیری تنظیم کی ریلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لسبیلہ کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں ایم ڈبلیو ایم نے کہا ہے کہ ضلع لسبیلہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے گئے امتیازی، غیرقانونی اور آئین سے متصادم اقدامات پر اہلِ تشیع میں شدید تشویش، اضطراب اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک کالعدم جماعت کو ریلی نکالنے کی اجازت دینا، جبکہ محبِ وطن، پُرامن اور قانون پسند شیعیانِ علیؑ کی 13 رجب المرجب کے موقع پر منعقد ہونے والی مذہبی ریلی کو بلاجواز روک دینا، کھلا تضاد اور دوہرا معیار ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مجلس وحدت مسلمین جنوبی بلوچستان اس اقدام کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 16 (حقِ اجتماع) اور آرٹیکل 20 (مذہبی آزادی)، دفعہ 144 اور دیگر متعلقہ قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فضائی برتری کے بغیر عراقی سالمیت نامکمل ہے، سید عمار الحکیم
ایم ڈبلیو ایم کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا یہ طرزِ عمل نہ صرف ریاستی رٹ کو کمزور کرتا ہے بلکہ قانون کی بالادستی، انتظامی غیرجانبداری اور مساوی شہری حقوق پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین نے حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس نہایت سنگین اور حساس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ضلع لسبیلہ کے ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے غیرآئینی اقدامات کا راستہ روکا جا سکے۔
بیان کے اختتام پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر اس امتیازی اور غیرقانونی رویے کا فوری اور مؤثر سدباب نہ کیا گیا تو اہلِ تشیع میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔







