فضائی برتری کے بغیر عراقی سالمیت نامکمل ہے، سید عمار الحکیم

14 جنوری, 2026 15:18

شیعیت نیوز : عراق کی معروف سیاسی جماعت حکمت ملی کے سربراہ سید عمار الحکیم نے کہا ہے کہ عراقی فوج نے 2003ء کے بعد سخت چیلنجز، سنگین مشکلات اور دہشت گردی کے وسیع خطرات کے باوجود خود کو ازسرِنو منظم کیا اور دوبارہ مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہونے میں کامیابی حاصل کی۔

فوج کے یومِ تاسیس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید عمار الحکیم نے کہا کہ مسلح افواج کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اداروں اور الحشد الشعبی جیسی دفاعی فورسز نے بھی براہِ راست ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے جنم لیا اور قومی دفاع میں مؤثر کردار ادا کیا۔

انہوں نے دفاعی و عسکری محاذ پر اسٹریٹجک تقاضوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاع (Air Defense) آج کے دور کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائی برتری اور کنٹرول کے بغیر خودمختاری کا تصور نامکمل ہے، خاص طور پر ڈرونز، گائیڈڈ میزائلز اور جیمنگ صلاحیت رکھنے والے جدید ہتھیاروں کے تناظر میں۔

یہ بھی پڑھیں : عوامی اطمینان ایران مخالف سازشوں کو ناکام بنائے گا، ایرانی صدر

سید عمار الحکیم نے زور دیا کہ فضائی دفاع کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ذمہ دارانہ حکمتِ عملی، مناسب فنڈنگ، اعلیٰ تربیت، جدید پروگرامز اور قومی ترجیحات میں اسے مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہم آہنگی مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ عراقی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے متعدد ذیلی شعبے ہیں، جن میں فیڈرل پولیس، انسدادِ دہشت گردی فورس، ریپڈ رسپانس فورس، الحشد الشعبی، پیرا ملٹری اور دیگر فورسز شامل ہیں۔ ان تمام اداروں کے درمیان اہداف کے انضمام، آپریشنل ہم آہنگی اور عدم مداخلت کے اصول پر تعاون ضروری ہے تاکہ قومی دفاع میں فوج کو مرکزی حیثیت حاصل رہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر حکمت ملی کے سربراہ نے کہا کہ ملٹری انٹیلی جنس اور سائرن الارم سسٹم کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہائبرڈ وار کا دور ہے، اور مضبوط انٹیلی جنس نظام ہی کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹنے کی ضمانت بن سکتا ہے۔

6:09 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top