پاراچنار میں عظمتِ شہداء کانفرنس، شہید قاسم سلیمانی، حسن نصراللہ اور یحییٰ سنوار کو خراجِ عقیدت

07 جنوری, 2026 14:15

شیعیت نیوز: تحریک حسینی کے سرپرستِ اعلیٰ سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی کی سرپرستی میں تحریک حسینی کے زیرِ اہتمام مدرسہ رہبرِ معظم پاراچنار میں ’’عظمتِ شہداء‘‘ کانفرنس کے عنوان سے مدافعانِ حرم اور قومی شہداء کی یاد میں ایک خوبصورت پروگرام کا اہتمام کیا گیا، جس میں علاقائی عوام اور عمائدین کے علاوہ قومی نمائندگان، اراکینِ انجمنِ حسینیہ، ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی صدر و اراکین، آئی ایس او اور آئی ایم او سمیت متعدد سیاسی اور سماجی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔

پروگرام کے آغاز کے لیے تحریک حسینی کے نائب صدر علامہ سید امین شاہ نے ابتدائی کلمات ادا کیے، اس کے بعد مدرسہ کے طالب علم قاری علی رضا کو دعوت دی گئی، جنہوں نے اپنی شیرین آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ تلاوت کے بعد منقبت کی صورت میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے طالب علم مبشر حسین اور ان کے ساتھیوں کو دعوت دی گئی، جنہوں نے بہت خوبصورت انداز میں شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

مدرسہ کے سابق طالب علم اور تحریک حسینی کے کونسل رکن علامہ محمد اللہ کو دعوتِ خطاب دی گئی، جنہوں نے ہر علاقے کے متعلقہ شہداء کو ان کا اصل ہیرو اور محافظ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیانِ کرم اگرچہ بہت امتحان سے گزر رہے ہیں اور تکالیف برداشت کر رہے ہیں، تاہم آج تک جس طرح عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، وہ انہی شہداء کا مرہونِ منت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ کے بعد صہیونی فوج ٹینکوں کی شدید کمی اور بحران کا شکار، پرانے ٹینک دوبارہ سروس میں شامل

انہوں نے کہا کہ اپر کرم سے ہجرت کرنے والے بعض لوگ بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہمارے 52 دیہات کو زبردستی بے دخل کرایا گیا ہے اور حکومت بھی انہی کے دعووں کو تسلیم کرتی ہے، حالانکہ یہ جتنے بھی لوگ مہاجر ہوئے ہیں، ان میں سے ایک بھی یہاں کا مستقل اور بندوبستی باشندہ نہیں۔ طوری بنگش علاقوں میں بطور مزارعین آباد ہونے کے بعد قابض ہو چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ان کا ان علاقوں سے کوئی مستقل تعلق نہیں تھا، چنانچہ جب طالبان کی طرف سے اس علاقے پر لشکرکشی ہوئی تو انہوں نے شروع میں انہیں ہر طرح کی سہولت فراہم کی اور طوری بنگش قبائل کا خوب نقصان کروایا، تاہم جب طوری بنگش قبائل نے اپنے دفاع کے لیے کارروائی شروع کی تو طالبان اور دیگر شرپسندوں کے ساتھ یہ مکار سہولت کار بھی یہاں سے چلے گئے۔ حالانکہ ان پر کسی نے کوئی زیادتی نہیں کی، بلکہ انہی شرپسندوں نے ہمیشہ سے مقامی لوگوں نیز حکومتی اہلکاروں پر جبر و تشدد اور زیادتی کی ہے۔

اس کے بعد تحریک حسینی کے رکن ذاکر محمد افضل نے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شاعر سردار علی شعلہ کا خوبصورت کلام پیش کیا۔

انجمنِ حسینیہ کے رکن پرنسپل امان علی صاحب کو دعوتِ خطاب دی گئی تو انہوں نے فلسفہِ شہادت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے واقعہِ کربلا کا اصل فلسفہ بھلا دیا ہے۔ کربلا سے ہم نے صرف علم اور ذوالجناح ہی اخذ کیا ہے۔ شہداء کو ہم نے صرف پروگراموں تک محدود کر رکھا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ کربلا ایک درسگاہ ہے۔ ہمیں وہ درس یاد رکھنا چاہیے جو ہمیں ان سے ملا ہے۔ شہید کی شہادت پر غم منانے اور قرآن خوانی کی بجائے ہمیں ان کے بچوں کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ شہداء کے بچے اگر گلیوں میں سوال کرتے رہیں یا وہ چرس اور آئس کے عادی بنتے جائیں تو گویا شہید نے اپنے بچوں کے ساتھ جبکہ ہم نے شہید کے خون کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

مدرسہ کے سینیئر استاد اور تحریک حسینی کے نائب صدر آقائے سید امین شاہ نے اپنے خطاب میں فلسفہِ شہادت کو موضوعِ سخن بناتے ہوئے اس حدیث سے تمسک کیا کہ ’’ہر نیکی سے بڑھ کر ایک نیکی موجود ہے، تاہم شہادت سے بڑھ کر کوئی نیکی موجود نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ شہادت ہی وہ ذریعہ ہے جس سے اقوام کی آبیاری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس دور میں دنیا کی سطح پر شیعہ حقوق کا واحد محافظ نظام، نظامِ اجتہاد اور نظامِ ولایت ہے اور یہی نظامِ اجتہاد آج کل ایمان اور نفاق کا مقیاس اور ترازو ہے۔ مولا علیؑ کے زمانے میں لوگوں کے ایمان و نفاق کو مولا علیؑ کی محبت اور بغض سے پہچانا جاتا تھا۔ آج ایمان و نفاق کا مقیاس رہبرِ معظم اور مجتہدین ہیں۔ جو رہبر سے محبت رکھتا ہوگا، وہ استعمار اور استکبار سے نفرت کر رہا ہوگا اور جو رہبر سے بغض رکھتا ہوگا، اس کا قبلہ امریکہ و اسرائیل اور مغرب ہوگا۔

تحریک کے سپریم لیڈر اور سابق سینیٹر علامہ سید عابد الحسینی نے اپنے خطاب میں شہادت کی درجہ بندی کی اور کہا کہ ایک شخص کسی ظالم و جارح سے اپنی جان کے دفاع میں مارا جاتا ہے، کوئی دوسرا شخص اپنے پورے خاندان کا دفاع کرتے ہوئے مظلوم مارا جاتا ہے، ان دونوں کے مراتب میں فرق ہے۔ اسی طرح ایک شخص اپنے گاؤں کا دفاع کرتا ہے، دوسرا اپنے پورے علاقے کا دفاع کرتے ہوئے مارا جاتا ہے، ان دونوں کے درجات میں فرق ہے۔ اسی طرح ایک شخص اپنے ملک کا دفاع کرتا ہے جیسے ہمارے قومی ہیروز عزیز بھٹی، راشد منہاس اور کرنل شیر خان شہید ہیں اور ایک شخص پوری امتِ مسلمہ کے لیے اپنی ملکی سرحدوں سے دور دشمنانِ خدا کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے۔

یقیناً ان سب کا درجہ اور مرتبہ ایک جیسا نہیں۔ چنانچہ قاسم سلیمانی، اسماعیل ہنیہ، حسن نصراللہ اور یحییٰ سنوار کا مرتبہ بہت اعلیٰ ہے، جنہوں نے ایک مقصد کی خاطر بلکہ امتِ مسلمہ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ چنانچہ ان کے مراتب کا کسی اور سے موازنہ نہیں بنتا۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنما سید سرفراز علی شاہ نے ام المصائب علیہا کے مصائب پڑھے اور آخر میں صدرِ تحریکِ حسینی ماسٹر یونس علی نے سب شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور تمام معزز مہمانوں کی پذیرائی کی۔

3:08 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top