غزہ جنگ کے بعد صہیونی فوج ٹینکوں کی شدید کمی اور بحران کا شکار، پرانے ٹینک دوبارہ سروس میں شامل

06 جنوری, 2026 10:11

شیعیت نیوز: دو سال تک غزہ اور دیگر محاذوں پر جنگ کے بعد صہیونی فوج ہتھیاروں کی کمی اور بحران کا شکار ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، عبرانی زبان کے معروف اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران بھاری نقصانات کے باعث اسرائیلی فوج کو ٹینکوں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں پرانے ٹینکوں کو قابلِ استعمال بناکر دوبارہ فوجی سروس میں شامل کیا جا رہا ہے۔

روزنامہ یدیعوت آحارانوت کے مطابق اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ غزہ پر جاری جنگ کے دوران اس کے بڑی تعداد میں ٹینک شدید طور پر تباہ یا ناقابلِ استعمال ہوچکے ہیں۔ ان میں سے متعدد ٹینک اب تک دوبارہ عملی حالت میں نہیں لائے جا سکے۔

اسی صورتحال کے پیشِ نظر تل ابیب نے پرانے ٹینک فروخت کرنے کا اپنا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے، جو اس سے قبل بلقان اور لاطینی امریکا کے بعض ممالک کو فروخت کیے جانے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مادورو کا اغوا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایران

اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج کو غزہ جنگ کے بعد ان پرانے ٹینکوں کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے، اسی لیے انہیں فروخت کرنے کے بجائے دوبارہ فوجی استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو صرف عسکری سازوسامان ہی نہیں بلکہ افرادی قوت کے محاذ پر بھی سنگین بحران کا سامنا ہے۔ انسانی وسائل کی کمی نے فوجی آپریشنز اور جنگی تیاریوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جو اسرائیلی فوج کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ٹینکوں اور افرادی قوت کی کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ جنگ نے اسرائیلی فوج کی جنگی صلاحیتوں کو توقع سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے، جس کے اثرات مستقبلِ قریب میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

5:13 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top