پاکستان میں دوہرا معیار بے نقاب: تکفیری عناصر آزاد، محب اہلبیتؑ علامہ یاسین قادری جھوٹے مقدمے میں گرفتار
شیعیت نیوز : ملک میں دوہرا معیار ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے، جہاں ایک جانب تکفیری سوچ کے حامل عناصر، سپاہِ صحابہ اور ان جیسے شدت پسند گروہ کھلے عام نفرت انگیز بیانات، جلوس اور اجتماعات کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اہلِ بیتؑ سے محبت کا اعلان کرنے والے علما اور ذاکرین کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین واقعے میں معروف عالمِ دین علامہ یاسین قادری کو ایک بے بنیاد اور من گھڑت مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق علامہ یاسین قادری کا واحد “جرم” یہی ہے کہ وہ اہلِ بیت اطہارؑ سے اپنی عقیدت اور محبت کا برملا اظہار کرتے ہیں اور تکفیری نظریات کے خلاف واضح موقف رکھتے ہیں۔ ان کی گرفتاری نے ملک بھر میں محبانِ اہلِ بیتؑ میں شدید تشویش اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اے آر وائے کا گھٹیا پروپیگنڈا بے نقاب، رہبر انقلاب کے خلاف امریکی اسرائیلی ایجنڈا
سوال یہ ہے کہ کیا اہلِ بیتؑ سے محبت اب پاکستان میں جرم بن چکا ہے؟ جبکہ دوسری جانب وہ عناصر جو کھلے عام تکفیر، نفرت اور قتل و غارت کے بیانیے کو فروغ دیتے رہے ہیں، آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں اور بعض مقامات پر ریاستی چشم پوشی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سپاہِ صحابہ جیسے گروہوں کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، مگر اس کے باوجود ان کے فکری وارث آج بھی سرگرم ہیں۔
علماء، سماجی حلقوں اور شیعہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ علامہ یاسین قادری کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور جھوٹے مقدمات کا خاتمہ کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ریاست تکفیری عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے، تاکہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔







