بلوچستان شیعہ کانفرنس کا تفتان بارڈر کی بندش پر شدید احتجاج، زائرین کو سنگین مشکلات کا سامنا
Pakistani pilgrims evacuated from Iran walk across the Pakistan-Iran border at Taftan, Balochistan province on June 18, 2025, amid the ongoing conflict between Israel and Iran. Pakistan has closed all its border crossings with neighbouring Iran for an indefinite period, provincial officials said on June 16, as Israel and Iran trade intense strikes and threaten further attacks. (Photo by Banaras KHAN / AFP)
شیعیت نیوز: بلوچستان شیعہ کانفرنس نے مقدس مقامات کی زیارات کے لیے ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے گزشتہ آٹھ ماہ سے بارڈر کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ میں منعقدہ بلوچستان شیعہ کانفرنس کے کابینہ اجلاس میں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
کابینہ نے حکومت پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے تفتان بارڈر کو زائرین کی آمدورفت کے لیے کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تفتان بارڈر نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر بند ہے۔
جس کے باعث زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہید جنرل قاسم سلیمانی کے ذریعے شروع ہونیوالی مقاومت کبھی نہیں رُکے گی، چینی ماہر
95 فیصد غریب زائرین اس بارڈر سے زیارات مقدسہ کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔
تفتان بارڈر غریب زائرین کا راستہ ہے، جبکہ بائے ایئر جانے والے زائرین کی تعداد پانچ فیصد ہے۔
سفری اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے زائرین بائے ایئر زیارات پر نہیں جا سکتے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اب جبکہ زائرین گروپ آرگنائزرز پالیسی کا بھی اجراء ہو چکا ہے تو فوری طور پر بارڈر کھولنے کے اقدامات کیے جائیں، تاکہ زائرین کی مشکلات کم ہو سکیں۔







