غزہ میں انسانی امداد کی شدید کمی، جنگ بندی کے باوجود صہیونی رکاوٹیں جاری
شیعیت نیوز : غزہ میں انسانی امداد کے حوالے سے سرگرم تنظیموں کو متعدد مشکلات درپیش ہیں۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود صہیونی حکومت عوام کو امدادی سامان پہنچانے کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
فلسطینی خبر ایجنسی کے مطابق غزہ میں غیر سرکاری تنظیموں کے امدادی نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے کہا کہ صہیونی حکومت کے حملوں کے نتیجے میں غزہ کے پندرہ لاکھ شہری اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بے گھر افراد کی رہائش کے لیے ہمیں تین لاکھ سے زائد خیموں کی ضرورت ہے، جبکہ اب تک صرف ساٹھ ہزار خیمے ہی غزہ میں داخل ہو سکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل دنیا کے بدترین ممالک کی فہرست میں شامل؛ تازہ ترین عالمی انڈیکس جاری
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ سے تباہ حال غزہ کو درپیش سب سے بڑا چیلنج صہیونی حکومت کی جانب سے اونروا کی امداد کو روکنا ہے، جس کے باعث غیر سرکاری تنظیموں پر اضافی بوجھ پڑ گیا ہے۔
الشوا کے مطابق غیر سرکاری تنظیموں کی بنیادی ترجیحات میں خواتین سربراہ خاندان، بزرگ افراد، معذور اور اعضاء سے محروم افراد، یتیم بچے، اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں رہنے والے خاندان شامل ہیں، جنہیں ضروری سامان اور پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ سب سے زیادہ کمزور اور ضرورت مند طبقوں کی مدد کی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قابض افواج نے غیر سرکاری تنظیموں کے بیشتر دفاتر کو تباہ کر دیا ہے جس کے باعث امدادی کارکن اس وقت متبادل مقامات یا خیموں کے اندر سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امجد الشوا نے خبردار کیا کہ انسانی ہمدردی کی امداد کے بجٹ میں کمی سے امدادی تنظیموں کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو گئی ہے، جس سے وہ عوام کی ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
دوسری جانب، غزہ کے العودہ اسپتال نے جمعرات کی شب ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے اور بجلی بند ہونے کے باعث اپنی خدمات روک دی تھیں، تاہم عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے محدود مقدار میں ایندھن ملنے کے بعد اسپتال نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔
غزہ حکومت کے میڈیا آفس کے بیان کے مطابق، جنگ بندی معاہدے کے آغاز سے لے کر 21 دسمبر تک صرف 394 ایندھن کے ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں، جبکہ معاہدے کے تحت یہ تعداد 3650 ٹرک ہونی چاہیے تھی۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسطاً روزانہ صرف 5 ٹرک غزہ پہنچ رہے ہیں، حالانکہ معاہدے کے مطابق یہ تعداد 50 ٹرک یومیہ ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد کی شرح صرف 10 فیصد رہی ہے۔







