اسرائیل دنیا کے بدترین ممالک کی فہرست میں شامل؛ تازہ ترین عالمی انڈیکس جاری
شیعیت نیوز : ایک تازہ ترین عالمی انڈیکس نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 میں اسرائیل اپنی خارجی وقار اور بین الاقوامی اعتبار کے لحاظ سے درجہ بندی میں سب سے نچلی سطح پر آگیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں اسرائیل کی ساکھ میں 6.1 فیصد کی شدید گراوٹ دیکھی گئی ہے، جو کہ اس انڈیکس کے 20 سالہ آغاز سے اب تک کی سب سے بڑی تنزلی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اب بین الاقوامی تنقید صرف اسرائیلی کابینہ تک محدود نہیں رہی بلکہ عام اسرائیلیوں کو بھی غزہ کے واقعات کا براہِ راست ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صہیونی جیلوں میں 9300 سے زائد اسیران کو “بتدریج قتل” کا سامنا، فلسطینی ادارے کا انکشاف
مغربی ممالک کے نوجوانوں اور نئی نسل کے نزدیک اسرائیل اب لبرل اقدار کے بجائے استعماریت کی علامت بن چکا ہے۔ اسرائیلی مصنوعات اور برانڈز کی مقبولیت میں شدید کمی آئی ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاری، سیاحت اور ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی، امریکہ کی اپنی برانڈ ویلیو میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تیزی آئی ہے۔
NBI انڈیکس 2025 کے مطابق، انسانی ہمدردی اور مصنوعات کی برآمدات جیسے شعبوں میں اسرائیل 50ویں (آخری) نمبر پر ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ برازیل، امریکہ اور بھارت وہ ممالک ہیں جہاں اب بھی اسرائیلیوں کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے، جبکہ جاپان، سویڈن، پولینڈ، برطانیہ، فرانس اور جنوبی کوریا میں اسرائیل کے خلاف نفرت اور ہمدردی کی کمی اپنے عروج پر ہے۔
یہ تحقیق اگست اور ستمبر 2025 میں 20 ممالک کے 40 ہزار شرکاء کے درمیان کی گئی، جو دنیا کی 70 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں دو سالہ مسلسل جنگ کے بعد صہیونی ریاست کی عالمی تنہائی کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔







