عراق کے معاملات میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول، اسرائیلی دھمکیوں پر عراقی وزیرخارجہ کا دوٹوک مؤقف
شیعیت نیوز : عراقی وزیر خارجہ نے صہیونی حکومت کی جانب سے درپیش خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جانب سے عراق، لبنان اور شام کو دھمکیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹام باراک کے عراق کے بارے میں دیے گئے بیانات حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ غیرمسلح نہیں ہوگی، فیصلہ قومی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ہوگا، حزب اللہ
فواد حسین نے عراق کے سیاسی ڈھانچے اور تین اعلیٰ عہدوں پر افراد کے انتخاب کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسائل سیاسی دھڑوں کے درمیان نہیں بلکہ ہر دھڑے کے اندر موجود اختلافات کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی انتخابات اور آئندہ حکومت کے قیام کے لیے حقیقی کوششیں اگلے ماہ کے آغاز سے شروع ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ عراق دیگر خطے کے ممالک کے مقابلے میں علاقائی تناؤ سے زیادہ متاثر ہوا ہے، اور بعض خارجی طاقتیں عراق کی حکومت میں مخصوص جماعتوں کو ترجیح دیتی ہیں، تاہم آخری فیصلہ عراقی عوام ہی کریں گے۔
فواد حسین نے مزید کہا کہ عراق شام کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، کیونکہ مشترکہ تجربات اور دہشت گردی کے خلاف تعاون دونوں ممالک کے لیے اہم ہیں۔
وزیر خارجہ نے ایک بار پھر تاکید کی کہ اسرائیل کی دھمکیاں عراق، لبنان اور شام کے خلاف برقرار ہیں اور عراق کے داخلی امور میں کسی بیرونی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔







