طالبان رہنما کی کھلی دھمکی: پاکستان کے کونے کونے میں ہمارے نظریاتی لوگ تیار بیٹھے ہیں
شیعت نیوز : طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالسلام ضعیف نے پاکستان کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا:
"ہمارے پاس بڑے جنگی ہتھیار نہیں ہیں، لیکن ہمارے پاس ان سے زیادہ خطرناک چیز ہے جو پاکستان کے پاس نہیں ہے۔ پاکستان کے کونے کونے میں ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہمارے نظریاتی لوگ۔”
مصنف نے استدلال کیا کہ اگر یہی جملہ ایران کے وزیرِ خارجہ یا کسی بڑے ایرانی عہدیدار نے کہہ دیا ہوتا تو پاکستان میں شدید ردِعمل ہوتا: دہشتگرد اورنگزیب فاروقی ہوائی گولہ باری کی طرح چیختا، لدھیانوی اسلام آباد کی سڑکوں پر چوڑیاں توڑتے ہوئے "اسلامِ نابِ محمدی خطرے میں” کا واویلا مچا رہا ہوتا، اسی طرح لشکرِ جھنگوی، سپاہِ صحابہ، تحریکِ لبیک اور دیگر تکفیری اور سڑکوں پر شیعہ کافر کے نعرے لگاتے اور جلاؤ گھیراؤ کر رہے ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی البرق ڈویژن کا آپریشن، کالعدم لشکر جھنگوی کے 3 دہشتگرد ہلاک
تاہم متن کے مطابق چونکہ یہ بیان انہی گروہوں کے "نظریاتی بھائیوں” کا ہے، اس لیے یہ وہابی/خوارج تکفیری گروہ آج بالکل خاموش ہیں۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہی "نظریاتی لوگ” ہیں جن کے پھٹنے سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے، مگر نہ ان کی شناخت واضح کی جاتی ہے اور نہ ہی فرقہ بتلایا جاتا ہے—بس باقاعدہ طرزِ گفتگو: "دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں”۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ خوارج فکری طور پر ان قدیم تنازعات، جیسے جنگِ جمل اور جنگِ صفین، سے جڑے ہوئے ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف طرزِ عمل مشابہت رکھتا ہے؛ اور باوجود اس کے کہ ان گروہوں نے لاکھوں مسلمانوں کو مارا، وہ کبھی اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
مضمون میں آگے کہا گیا ہے کہ طالبان نے واضح کر دیا ہے کہ "تمہارے گھر میں ہمارے لوگ بیٹھے ہیں”—اور آخر میں سوال اٹھایا گیا: "اب بتاؤ اے تکفیریو! آج تمہاری زبان پر تالا کیوں لگ گیا؟”







