مسترد شدہ لوگوں کو زبردستی ملک پر مسلط کرنا عوام کے مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کی توہین ہے، علامہ مقصود ڈومکی
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ملکی حالات کی ابتری کا بنیادی سبب عوام کی مقبول سیاسی قیادت کو پابندِ سلاسل کرنا اور اس کی جگہ مصنوعی، جعلی اور عوام سے مسترد شدہ قیادت کو ملک پر مسلط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو عام انتخابات کے موقع پر پاکستان کے عوام نے واضح طور پر ردّ کر دیا، انہیں زبردستی ملک پر مسلط کرنا عوام کے مینڈیٹ اور جمہوری اقدار کی توہین ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہداد کوٹ میں نصیر آباد پریس کلب میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس سے قبل علامہ مقصود ڈومکی نے نصیر آباد پہنچ کر پریس کلب نصیر آباد کے صدر بشیر احمد لغاری سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحومہ کے لیے بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم ضلع قمبر شہداد کوٹ کے سابق ضلعی صدر مولانا سید اختر حسین نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
پریس کلب کے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کے مسائل ایک سال میں حل ہو سکتے ہیں، اگر ان صوبوں کی حقیقی سیاسی قیادت کو آئینی و انتظامی اختیارات کے ساتھ حکومت اور اقتدار سونپا جائے۔ جعلی مینڈیٹ کے حامل حکمرانوں کی وجہ سے ملک شدید بحرانوں کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں غیر جمہوری قوتوں کو پروان چڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک جمہوری ملک میں پرامن تبدیلی کے تمام راستے بند کر دیئے جائیں، تو عوام کو تبدیلی کے لئے مجبوراً پرتشدد راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : تحریک طالبان پاکستان کے تکفیری وہابی دہشت گردوں کا قرآن سر پر رکھ کر شیعہ قتل عام کا اعلان
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعلی مینڈیٹ کی سرپرستی ترک کی جائے اور ملک کے تمام اختیارات عوام کے منتخب، حقیقی اور بااختیار نمائندوں کے سپرد کیے جائیں۔ ملک کو جبر و تشدد کے بجائے آئینِ پاکستان اور عوامی رائے کی روشنی میں چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام محب وطن ہیں اور اپنے ملک و عوامی مفادات کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین سندھ کی وحدت، امن، یکجہتی اور سالمیت پر یقین رکھتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ سندھ کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے اور مظلوم عوام کی ترجمانی کی ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے نصیر آباد میں مسجد و امام بارگاہ زینبیہ پہنچ کر مسجد زینبیہ کے متولی زوار روشن علی کی وفات پر ان کے ورثاء سے بھی تعزیت کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔







