جب حکمران قوم سے ان کا بنیادی حق ،حقِ انتخاب، چھین لیں تو پھر تبدیلی کا راستہ ووٹوں سے نہیں، عوامی انقلاب سے کھلتا ہے،علامہ راجہ ناصرعباس
شیعیت نیوز : سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب اورہری پوریمیں ضمنی الیکشن ایک بار پھر مسلط شدہ رجیم نے عوامی رائے پر شب خون مار کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا مقصد ملک میں استحکام لانا نہیں بلکہ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ صوبے بھر میں پولنگ اسٹیشنوں پر دن دہاڑے ہونے والی پولیس گردی نے ان چور حکمرانوں کے اصل چہرے ایسے عیاں کر دیے ہیں کہ اب ان کی مکاری چھپانا ممکن نہیں رہا۔ جب حکمران قوم سے ان کا بنیادی حق ،،حقِ انتخاب،، چھین لیں تو پھر تبدیلی کا راستہ ووٹوں سے نہیں، عوامی انقلاب سے کھلتا ہے۔
پنجاب میں ضمنی الیکشن کا ٹرن آؤٹ بیس فیصد سے کم رہنا اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ عوام نے اس مسلط شدہ رجیم اور اس کے سرپرستوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ عوامی بیزاری نہیں بلکہ عمران خان کی سیاسی اور اخلاقی برتری کا واضح اظہار ہے۔ قوم نے اپنے طرزِ احتجاج سے بتا دیا ہے کہ وہ ظلم، جبر اور دھاندلی کے نظام کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔
ملک کے سیاسی منظرنامے پر قابض غیر جمہوری قوتوں نے تبدیلی کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔ الیکشن کمیشن ایک بااختیار ادارہ نہیں رہا؛ یہ محض ایک کٹھ پتلی ہے جو ہر ظلم، ہر ناانصافی اور ہر دھاندلی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے اپنی ساکھ کا خود جنازہ اٹھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان، ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے، اسحاق ڈار
افسوس ان طبقات پر جو طاقت کے نشے میں اندھے ہو چکے ہیں، نہ تاریخ سے سبق لیا اور نہ زمانے کے تغیرات کو سمجھا۔ ملک کی معیشت آخری سانسیں لے رہی ہے، عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی بھٹی میں جھلس رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وہ اقتدار کو اپنی جاگیر اور قوم کو اپنا غلام سمجھ کر ہر سمت سے عوام کے استحصال میں مصروف ہیں۔
یہ ظلم کی وہ طویل رات ہے جس کا ہر لمحہ قوم کا خون نچوڑ رہا ہے، مگر تاریخ کا اصول اٹل ہے: ظلم کبھی دائمی نہیں رہتا۔ جب عوام بیدار ہو جائیں تو طاقت کے ایوان لرز اٹھتے ہیں، مسلط نظام زمین بوس ہو جاتے ہیں اور قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لکھتی ہیں۔
آج بھی وقت یہی ہے کہ اس شکستہ، فرسودہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف ایک فیصلہ کن عوامی بیداری جنم لے۔ کیونکہ اگر قوم نہ جاگی تو یہ ظلم کل کو مقدر بن جائے گا، لیکن اگر قوم کھڑی ہو گئی تو پھر کوئی قوت اس سرزمین کے باسیوں کو غلام نہیں رکھ سکے گی۔







