27ویں آئینی ترمیم عدلیہ پر کھلا حملہ ہے، نظامِ عدل کی عمارت گرا دی گئی ہے: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

18 نومبر, 2025 12:36

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین اور تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے رہنما سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ملک میں نظامِ عدل کا پورا ڈھانچہ منہدم کر دیا گیا ہے اور عدلیہ کا ادارہ عملاً ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کی آزادی اور اس کے کردار کو سنگین نقصان پہنچایا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں انتخابات تک لوٹ لیے جاتے ہیں، وہاں عوام کو انصاف کہاں سے ملے گا؟ انصاف کے سارے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب ظلم کا راستہ روکنے والا کوئی ادارہ باقی نہیں رہا۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ آج پارلیمنٹ بھی اپنی حیثیت کھو چکی ہے اور متفقہ آئین کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔ وہ دستاویز جو پاکستان کی فیڈریشن کو جوڑتی ہے، اس کی بنیادیں کمزور کی جا رہی ہیں، جو فیڈریشن، ریاستی سالمیت اور بنیادی حقوق پر کھلا حملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فتنۃ الخوارج کے خارجی دہشت گرد کے ہوشربا اعترافات سامنے آ گئے

انہوں نے کہا کہ آئین نے قانون سازی کی واضح حدود متعین کی ہیں: پہلی یہ کہ آئین کی روح کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا، اور دوسری یہ کہ قرآن و سنت کو سپریم حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے آئین میں جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی حاکمیت صالح، صادق اور امین نمائندوں کے ذریعے قائم ہو، اس لیے کوئی قانون اللہ کے احکام کے خلاف نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 26 کروڑ عوام ریاست کے حقیقی مالک ہیں، اس لیے ہم سوال بھی اٹھائیں گے اور خاموش بھی نہیں رہیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آنے والا جمعہ ملک بھر میں یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ علما، نوجوان، مرد و خواتین سب اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، سیاہ پٹیاں باندھیں اور مساجد کے باہر یا جہاں ممکن ہو احتجاج کریں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد کا صرف آغاز ہے۔ ایک قومی کانفرنس بلائی جا رہی ہے جس میں تمام طبقات اور اہم شخصیات کو دعوت دی جائے گی تاکہ قوم متحد ہو کر آئین پر ہونے والے حملے کا مقابلہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک آگے بڑھے گی اور مزید مضبوط ہو گی۔

4:01 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top