حزب اللہ نے سنی، شیعہ، عیسائی سب کی حفاظت کی ہتھیار ڈالنے نہیں دیں گے، لبنانی اہلِ سنت علماء

14 نومبر, 2025 14:38

شیعیت نیوز: لبنان کے ممتاز اہلِ سنت علما نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر مزاحمت، خصوصاً حزبِ اللہ، نے ہتھیار ڈالنے کا کبھی ارادہ بھی کیا تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنا "اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت” کے مترادف ہے۔

اہلِ سنت علما نے کہا کہ حزبِ اللہ کے ترانے میں جس طرح کہا جاتا ہے کہ "اللہ کے ہاتھ نے ہمیں ہتھیار عطا کیے”، یہ ہتھیار ترک کرنا خدائی امانت سے روگردانی کے برابر ہے۔
ان کے مطابق، لبنان میں مزاحمتی ہتھیار صرف شیعہ قوم کی ڈھال نہیں بلکہ سنی، عیسائی اور دروز شہریوں کی حفاظت بھی کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شہید تہرانی مقدم کا مشن زندہ ہے، صہیونی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے: ایرانی مسلح افواج

علما نے اپنی گفتگو میں سنہ 1982 کے اسرائیلی حملے اور اس کے بعد صبرا و شتیلا میں ہونے والے قتلِ عام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت فلسطینی مزاحمت کو غیر مسلح کروایا گیا اور امریکہ نے فلسطینیوں کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا، لیکن جیسے ہی یاسر عرفات اور فلسطینی تنظیمیں لبنان سے روانہ ہوئیں، لبنانی عسکری گروہوں اور اسرائیل کے تعاون سے صبرا و شتیلا میں ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ “ہم کسی بھی عالمی طاقت یا حکومت کے وعدے پر اعتماد نہیں کرتے، چاہے وہ امریکی ہو، اسرائیلی ہو یا حتیٰ کہ عرب حکومتیں۔ صرف امام علیؑ کے عہد پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔”

اہلِ سنت علما نے زور دیا کہ صیہونی اور اسرائیلی طاقتیں تاریخ میں معاہدوں کی خلاف ورزی اور خیانت کے لیے بدنام رہی ہیں۔ ان کے مطابق، “یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تاریخ میں انبیا، صحابہ اور اہلِ بیت کے زمانے میں قتل و غارت گری کی۔ ایسے عناصر کبھی کسی کو امان نہیں دیتے۔”

آخر میں علما نے کہا کہ حزبِ اللہ نے اہلِ سنت کی حفاظت کی ہے، اسی لیے ہتھیار ڈالنے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

6:16 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔