حوزہ علمیہ مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں پیشرفتہ اور سرخرو ہے، آیت اللہ مکارم شیرازی
شیعیت نیوز: مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ حوزہ علمیہ نہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کے قافلے سے پیچھے نہیں ہے بلکہ قرآن و اہل بیتؑ کی خدمت میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال میں پیش قدم ہے۔
یہ بات آپ نے مرکز تحقیقات کمپیوٹری علوم اسلامی (نور) کے سربراہ، مدیران اور محققین کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ یہ وفد "گفتگو با تفاسیر” (Chattotafsir) نامی انٹیلیجنٹ سسٹم کے اجرا کے موقع پر آیت اللہ مکارم شیرازی سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا تھا۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے علمی و دینی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے فرمایا:
"مجھے علم نہیں تھا کہ حوزہ علمیہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں اس قدر فعال ہو چکا ہے۔ آپ کی ملاقات اور مکمل رپورٹ سے مجھے خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے۔ میں آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ قرآن و اسلامی علوم کی خدمت میں جدید علمی و سائنسی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں : جعفریہ الائنس پاکستان کی نئی کابینہ کا اعلان، علامہ شہنشاہ نقوی کی قیادت میں تنظیمی سرگرمیاں تیز
انہوں نے زور دیا کہ میڈیا کو چاہیے کہ حوزہ علمیہ کی علمی و ٹیکنالوجی پیشرفت کو نمایاں طور پر اجاگر کرے۔
اس موقع پر آپ نے نہج البلاغہ کے خطبہ 174 سے امیرالمؤمنینؑ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا:
«إِنَّ اَللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ یَعِظْ أَحَداً بِمِثْلِ اَلْقُرْآنِ… وَ فِیهِ رَبِیعُ اَلْقَلْبِ وَ یَنَابِیعُ اَلْعِلْمِ وَ مَا لِلْقَلْبِ جِلاَءٌ غَیْرُهُ»
"بلاشبہ اللہ سبحانہ نے کسی کو ایسی نصیحت نہیں کی جو قرآن کے مانند ہو، کیونکہ یہ اللہ کی مضبوط رسی اور امانتدار وسیلہ ہے۔ اسی میں دل کی بہار اور علم کے سرچشمے ہیں، اور اسی سے دل کے آئینے کو جلا حاصل ہوتی ہے۔”
آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا کہ یہ فرمان ظاہر کرتا ہے کہ قرآن کریم لامحدود علم کا سرچشمہ ہے، اور ہر بار رجوع کرنے سے انسان کی معرفت بڑھتی اور جہالت کم ہوتی ہے۔
انہوں نے وفد کی سرگرمیوں کو قرآنی علوم کے سرچشموں سے رجوع کا حقیقی مصداق قرار دیا۔







