ولایتِ علیؑ اور مظلومیتِ زہراؑ: امتِ مسلمہ کے بھولے ہوئے دو ابدی حقائق
شیعیت نیوز: ولایتِ امیر المؤمنین علیہ السّلام اور مظلومیتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسلام کی تاریخ کے وہ دو روشن باب ہیں جن میں حق و باطل کی تمیز ہمیشہ واضح رہی ہے۔ مگر صد افسوس کہ انہی دو حقائق کو امت نے سب سے زیادہ فراموش کر دیا۔
آج ہماری حالت یہ ہے کہ ابھی غدیر نہیں آتی کہ ہم عاشورا کے دنوں کا شمار شروع کر دیتے ہیں، مگر غدیر — جو ولایت کی عید ہے — اس کے لیے کوئی اہتمام نہیں۔ گویا ہمیں اس عید کی حقیقت کا شعور ہی نہیں۔
حالانکہ غدیر وہ دن ہے جس کے لیے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے خود کو اور اپنے فرزندوں کو قربان کر دیا۔ غدیر ان کے نزدیک محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایمان کا محور تھی، کیونکہ یہ دن امیرالمؤمنینؑ کی ولایت کا اعلان تھا، اور یہی ولایت دین کی روح ہے۔
مگر افسوس! امت نے اسی ولایت کو بھلا دیا اور اسی کے مقابل قیام کرنے والوں کو مقدس بنا دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ جب دلیل ختم ہو جاتی ہے، زبان دشنام دینے لگتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایامِ فاطمیہ: سیرتِ سیدہ فاطمۃ الزہراءؑ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، آغا باقر الحسینی
حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا مسئلہ محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ایک فکری آزمائش ہے۔
جس طرح مسئلۂ غدیر میں گفتگو علمی بنیادوں پر ہو سکتی ہے — دلیل کے ساتھ، آیت کے ساتھ، روایت کے ساتھ — لیکن جب بات فاطمہ زہراؑ پر ظلم کی آتی ہے، وہاں مخالف کے پاس کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔
کیونکہ اگر وہ حقیقت کو تسلیم کرے تو اپنے عقیدے کی بنیاد ہل جاتی ہے۔ اسی بے بسی میں وہ دشنام کا سہارا لیتا ہے، اور یہی فقدانِ برہان کی علامت ہے۔
وہ کہتے ہیں: “فاطمہؑ کے گھر میں اموالِ بیت المال بند تھے!” — یہ کتنا بڑا جھوٹ اور بہتانِ عظیم ہے۔
قرآن نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا:
“وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا”
اور ہم بھی کہتے ہیں:
“وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى فَاطِمَةَ بُهْتَانًا عَظِيمًا”
یہ الزام صرف ناصبی لگا سکتے ہیں۔ ابنِ تیمیہ اور اس کے پیروکاروں نے اسی زبان میں زہر اگلا، اور عبدالعزیز دہلوی جیسے لوگوں نے اسے "فضیلت” کے لباس میں پیش کیا۔
یہ وہ لوگ ہیں جو ایک طرف تو عائشہؓ کے ذکر پر بھی غیرت دکھاتے ہیں، مگر دوسری طرف نبیؐ کی بیٹی پر تہمت لگانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ تاریخ میں یہ تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔
سیوطی نقل کرتا ہے کہ اگر کوئی فقیہ کہے کہ "عورت کی گواہی نصف مرد کے برابر ہے، حتیٰ کہ اگر وہ عائشہؓ ہی کیوں نہ ہو” — تو یہ گستاخی ہے، اور ایسے شخص کا منہ توڑ دینا چاہیے۔ مگر جب فاطمہ زہراؑ کی بات آتی ہے، تو یہی لوگ ان کے گھر کو "گھرِ اوباش” کہنے سے نہیں جھجکتے۔
یہ وہی دلیل سے محروم ذہن ہیں جو تقدس کے معیار اپنی مرضی سے بدل لیتے ہیں۔ یہی لوگ کہتے ہیں: “یارانِ پیغمبر پر کوئی تنقید نہیں کر سکتا، چاہے وہ ایک لمحہ کے لیے ہی رسولؐ کے قریب رہا ہو۔”
مگر جب انہی کے ہاتھوں نبیؐ کی بیٹی پر ظلم ہوتا ہے، تو سب خاموش رہتے ہیں۔
عبداللہ بن مبارک سے پوچھا گیا: “عمر بن عبدالعزیز بہتر ہیں یا معاویہ؟”
اس نے کہا: “تم نے بے ادبی کی! معاویہ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار گیا، وہ سو عمر بن عبدالعزیز سے بہتر ہے!”
دیکھیے کیسا اندھا تعصب ہے — ایک ایسا شخص جو فتحِ مکّہ کے بعد مجبوراً مسلمان ہوا، اس کے گھوڑے کا غبار بھی مقدس ٹھہرتا ہے، مگر فاطمہ زہراؑ، جو نبیؐ کی روح کا جزو ہیں، ان کے گھر کو "محلِ فساد” کہا جاتا ہے!
کیا یہ ایمان ہے یا باطل کے دفاع کا جنون؟
حضرت فاطمہ زہراؑ کا قیام محض احتجاج نہیں تھا بلکہ ولایت کی بقا کا اعلان تھا۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ حق خاموش نہیں رہ سکتا۔ ان کا گریہ، ان کی فریاد، ان کا خطبہ — سب ولایت کی صدا تھے۔
اور یہی صدا تھی جس سے باطل لرز اٹھا۔ جب دلیل ان کے پاس نہ رہی تو انہوں نے فاطمہؑ کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی۔ مگر آج چودہ صدیوں بعد بھی زہراؑ کی صدائے حق زندہ ہے، اور ان کے قیام نے باطل کا چہرہ ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا۔
سلام ہو اُس ہستی پر جس نے دلیلِ حق بن کر باطل کی تمام دلیلیں باطل کر دیں۔
سلام ہو فاطمہ زہراؑ پر — محورِ ولایت، مظلومۂ تاریخ، اور صدائے ابدیِ حق۔







