جامعۃ المصطفیٰ کراچی میں "آئیڈیل دینی طالب علم” پر علمی نشست
شیعیت نیوز : گزشتہ روز ایک آنلائن علمی نشست بعنوان "آئیڈیل دینی طالب علم، رہبرِ انقلاب کی نگاہ میں” شعبۂ تحقیق جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی کی جانب سے منعقد ہوئی۔ یہ نشست حوزہ علمیہ قم کے سو سالہ یومِ تاسیس کے موقع پر رہبرِ انقلاب کے جاری کردہ پیغام کے تناظر میں منعقد کی گئی۔
پروگرام کے آغاز میں جناب منظوم ولایتی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور محترم ریاضت حسین رضی نے تلاوتِ قرآنِ کریم کی سعادت حاصل کی۔ بعد ازاں شعبۂ تحقیق جامعۃ المصطفیٰ کراچی کے مسئول جناب سکندر علی بہشتی نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے نشست کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔
نشست سے مولانا محمد سجاد شاکری نے خطاب کیا۔ ان کا موضوع تھا: "دینی طلاب کا عصرِ حاضر میں جامع کردار، رہبر کے پیغام کی روشنی میں”۔ انہوں نے رہبرِ انقلاب کے بیان کردہ پانچ بنیادی نکات کی وضاحت کی جو ایک دینی طالب علم کی شخصیت میں نمایاں ہونے چاہئیں:
1️⃣ تعلیمی و تحقیقی کردار: فقہ، فلسفہ، کلام اور دیگر دینی علوم میں گہرائی، اجتہاد میں زمان و مکان کا لحاظ اور جدید اداروں سے روابط۔
2️⃣ فکری و اخلاقی کردار: اپنی تربیت اور اخلاقی بلندی تاکہ دوسروں کو مؤثر انداز میں رہنمائی دی جا سکے۔
3️⃣ تبلیغی و ثقافتی کردار: واضح اور مؤثر تبلیغ کے ذریعے "ثقافتی مجاہدین” کا کردار ادا کرنا۔
4️⃣ سماجی و سیاسی کردار: استکبار کے خلاف آواز بلند کرنا اور امت کا ترجمان بننا۔
5️⃣ تہذیبی و عالمی کردار: نئی اسلامی تہذیب کی تشکیل اور امام مہدی (عج) کے ظہور کے لیے زمینہ سازی۔
مولانا شاکری نے زور دیا کہ یہ نکات ہر دینی مدرسے اور طالب علم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مؤمن خواتین مزاحمت کا شعور اگلی نسلوں تک منتقل کریں گی، لبنانی اہلسنت عالم دین شیخ احمد القطان
نشست کے دوسرے مقرر حجۃ الاسلام شیخ فداعلی حلیمی تھے۔ انہوں نے "مثالی حوزہ کے خدوخال، رہبر کی نظر میں” کے موضوع پر خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حوزہ کا مقصد صرف درس و تدریس ہے تو اس کی نوعیت ایک طرح کی ہوگی، لیکن اگر مقصد دین اور عوام کی خدمت ہے تو اس کے خدوخال بالکل مختلف ہوں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ رہبرِ انقلاب کے مطابق حوزہ کے بنیادی مقاصد یہ ہیں: فہمِ دین، تبیینِ دین، تفہیمِ دین، حاکمیتِ دین اور عوام کی علمی و تربیتی رہنمائی۔ اس تناظر میں انہوں نے تین اہم عناصر پر زور دیا:
-
حوزہ ایک حقیقی علمی مرکز ہو، نصاب و تدریس اور نظامِ مدیریت عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔
-
صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ کارآمد افراد کی تربیت، معنویت، اخلاق اور روحانیت کو اصل مقصد بنایا جائے۔
-
فارغ التحصیل طلبہ دنیا کے حالات اور دشمن کی سازشوں سے آگاہ ہوں، کیونکہ تاریخ میں دشمن شناسی کی کمی نقصان کا باعث بنی۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں بلاغِ مبین کا سب سے مؤثر ذریعہ میڈیا ہے اور دینی مدارس کو چاہیے کہ اس سے بھرپور استفادہ کریں۔ ساتھ ہی طلاب کو کم از کم ایک زبان پر عبور حاصل ہونا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر تحقیق و تبلیغ کے میدان میں فعال کردار ادا کیا جا سکے۔







