قائداعظم کے پاکستان کو طبقاتی تفریق اور انتہا پسندی نے گھیر لیا، علامہ سید ساجد نقوی
شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کے 77ویں یوم وفات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح جیسے عظیم لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے پرجوش عوامی جدوجہد کے ذریعے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے قیام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ افسوس آج پاکستان ایک طرف داخلی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے تو دوسری جانب کم ترین شرح خواندگی اور معاشرتی برائیوں نے بھی گھیر رکھا ہے، بنیادی حقوق ناپید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک آزاد اور خود مختار وطن ہمارے حوالے کیا مگر آج کے روز ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ بزرگوں کی اس امانت کے ساتھ کیا کیا گیا۔ سات دہائیاں گزر گئیں مگر قائد کی امنگوں کے مطابق آزاد، خود مختار اور ترقی یافتہ پاکستان نہ بن پایا۔ وہ پاکستان جسے اسلام کی تجربہ گاہ اور دنیا کے لئے مشعل راہ بننا تھا اس کے بجائے بیرونی قرضوں اور مختلف خلفشاروں کی نذر کر دیا گیا۔ افسوس کہ اس وطن کو، جسے اسلامی قوانین کے نفاذ، بنیادی حقوق اور انسانی ضروریات کے حوالے سے صفِ اول میں کھڑا ہونا چاہیے تھا، فلسطین سمیت مظلوموں کی توانا آواز بننا تھا، اس کی جگہ طبقاتی تفاوت، عدل و انصاف کے فقدان اور انتہا پسندی نے لے لی۔
یہ بھی پڑھیں :
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ یہاں ذاتی خواہشات اور سیاسی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دی گئی۔ عوام کے حقوق کی آواز بلند کرنے والوں نے عوام کو طبقاتی تفریق، پسماندگی اور تنگدستی کی نذر کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قائد کا پاکستان داخلی طور پر مضبوط، مستحکم اور خوشحال اسی وقت بن سکتا ہے جب حکمران اور اربابِ اختیار اچھے اور برے میں فرق کریں۔ ظالم و مظلوم، انتہا پسندوں اور امن پسندوں کے درمیان فرق کئے بغیر توازن کی ظالمانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر کبھی ملکی سلامتی اور قومی خدمت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے کے لئے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اصول کے ساتھ ساتھ نظام تعلیم میں حقیقی اصلاحات اور بنیادی حقوق کے تحفظ سمیت تمام امور پر ملکی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا۔







