اصل اہمیت "علم سے معلوم” کی طرف ہجرت و حرکت کی ہے، آیت اللہ جوادی آملی
حکومت کے ڈرامے کی حقیقت سامنے آگئی، فلسطینی ہتھیار حقِ واپسی سے وابستہ ہیں

شیعیت نیوز : شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے ایک درسِ اخلاق میں "ہجرتِ عظیم” کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے اکثر لوگ حوزات یا یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں اور کبھی کبھار اس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ اصل "کلید” نہیں، یہ "چراغ” نہیں بلکہ یہ روشن فضا میں چلنا ہے یا کھلے ہوئے کمرے میں قدم رکھنا؛ یہ وہ چیز نہیں جو بند دروازے کھولے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا کام جہالت سے علم کی طرف ہجرت ہے، یعنی چاہے حوزہ ہو یا یونیورسٹی، ہم کوشش کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں تاکہ عالِم بن سکیں۔ یہ اچھا کام ہے، لیکن یہ پہلا قدم ہے۔
جہالت سے علم کی طرف آنا اور عالِم بننا، "ہجرتِ صغری” اور "جہادِ اصغر” ہے۔ لیکن اصل اہمیت "علم سے معلوم” کی طرف ہجرت کی ہے، نہ کہ علم سے علم کی طرف۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ انسان یا تو جہالت سے علم کی طرف حرکت کرتا ہے اور عالِم بن جاتا ہے، یا ایک علم سے دوسرے علم کی طرف بڑھتا ہے اور أعلم بن جاتا ہے۔ عالِم وہ ہے جو جہالت سے نجات پا کر کچھ حقائق سمجھ لیتا ہے۔ أعلم وہ ہے جو ان سمجھی ہوئی باتوں کو مقدمہ بناتا ہے اور وہ حقائق کشف کرتا ہے جو دوسروں پر پوشیدہ ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ابھی بھی مفاہیم اور معرفتی منابع میں سفر کر رہے ہوتے ہیں، کسی کو براہِ راست "خارج” تک رسائی نہیں ملتی بلکہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے پڑھے ہوئے کچھ حصے پر عمل کرتا ہے۔
البتہ وہ شخص جو "ہجرتِ وسطا” اور "جہادِ اوسط” میں ہے، علم سے معلوم کی طرف آتا ہے۔ وہ اس فکر میں نہیں ہوتا کہ کچھ سیکھے یا أعلم بن جائے، وہ مفاہیم اور ذہنی صورتوں کے ساتھ نہیں رہتا، کتابی علوم کے ساتھ محدود نہیں رہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ جس حقیقت اور خارج سے یہ الفاظ و مفاہیم حکایت کرتے ہیں، اسے پا لے۔