عالمی یوم مسجد: امت مسلمہ کے اتحاد اور مزاحمت کی علامت

21 اگست, 2025 13:35

شیعیت نیوز : مساجد، جو عبادت گاہ اور سماجی مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں، ہدایت کے مینار ہونے چاہئیں تاکہ تمام مذاہب اور مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان فہم، برداشت اور تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔ اسلامی معاشروں میں مساجد کو خاص مقام حاصل ہے اور ان کی بے حرمتی مسلمانوں کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچاتی ہے۔

عالمی یوم مسجد مسجد اقصی میں لگائی گئی آگ کی یاد دلاتا ہے اور دنیا بھر میں مذہبی مقامات کے تحفظ کی ضرورت اجاگر کرتا ہے۔ 21 اگست 1969 کو ایک انتہاپسند نے مسجد اقصی، جو مسلمانوں کے سابق قبلہ اول اور نہایت اہم مقام کی حیثیت رکھتی ہے، کو آگ لگا دی تھی۔ اس آگ نے تقریبا 1500 مربع میٹر حصے کو جلا کر تاریخی خصوصیات کو تباہ کردیا اور ڈھانچے کے کچھ حصے گر گئے۔ اس واقعے نے اسلامی دنیا میں شدید غم و غصے اور احتجاج کو جنم دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 271 میں اسرائیل کو اس مجرمانہ اقدام پر مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ عالمی یوم مسجد مسجد اقصی کی حیثیت کو اجاگر کرتا ہے جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ جنگ: عوامی دباؤ پر جرمنی نے اسرائیل کو اسلحہ برآمدات روک دیں

مسجد: سجدہ گاہ اور مرکز اجتماع

مسجد اسلامی عبادت گاہ کو کہا جاتا ہے۔ لفظ مسجد عربی سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے "سجدہ کرنے کی جگہ”۔ ابتدائی مساجد کا نقشہ مدینہ میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی مسجد نبوی کے صحن سے ماخوذ تھا۔

مساجد کو ہمیشہ عبادت و اجتماع کی جگہ کے طور پر احترام حاصل رہا ہے۔ یہ مسلمانوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہیں، ہر عمر کے لوگوں کو جوڑتی ہیں اور انسانی روحانی و اخلاقی ارتقاء میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں مساجد کو مقدس مقامات کی حیثیت حاصل رہی ہے جو زمین و آسمان کو جوڑنے کا وسیلہ ہیں اور انسانی تربیت کے مراکز ہیں۔ یہ نہ صرف دینی بلکہ سماجی، سیاسی اور عالمی مسائل پر بات چیت کے مراکز بھی رہی ہیں۔

ایران میں بے شمار تاریخی مساجد اور مزارات ہیں جو اپنی متوازن ساخت، جیومیٹری کے نمونوں اور رنگین ٹائلوں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ان میں سے مسجد نصیرالملک، خانقاہ شیخ صفی الدین اردبیلی، مسجد شاہ چراغ، مسجد امام (اصفہان)، جامع مسجد یزد، مسجد وکیل شیراز، نیلی مسجد تبریز، گوہر شاد مسجد، مسجد آقا بزرگ اور مسجد جمکران نمایاں ہیں۔

مساجد کی تعمیر علاقائی روایات اور دستیاب وسائل کے مطابق مختلف ہوتی ہے، تاہم چند مشترکہ عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں جیسے محراب، منبر، مینار اور وضو خانے۔

دیواروں پر خطاطی، جیومیٹری کی اشکال اور پھولوں کے نمونے عام ہیں جو اسلامی فنون کا مظہر ہیں اور تصویری پیکروں کے بجائے قرآنی آیات اور تجریدی ڈیزائن استعمال کیے جاتے ہیں۔

مساجد اتحاد اور مزاحمت کی علامت

مساجد کے تحفظ اور مرمت کو نیکی کا عمل سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ان کی حیثیت کو بحال رکھتا ہے تاکہ وہ ایمان، تعلیم اور سماجی ربط کے مراکز کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہیں۔ آج کی مساجد جدید سہولیات سے مزین ہیں لیکن اپنی روایتی معمارانہ روح کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو اسلامی فن تعمیر کے ارتقاء کی نشانی ہے۔

عالمی یوم مسجد مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ مساجد بالخصوص مسجد اقصی ان کی اجتماعی شناخت اور روحانی مرکز ہیں۔ یہ دن اتحاد، ظلم کے خلاف مزاحمت اور انصاف کے فروغ کی علامت ہے، جیسا کہ تاریخ میں مساجد ہمیشہ اس کردار میں نظر آئی ہیں۔

موجودہ دور میں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر باہمی اتحاد اور تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ مسلمانوں کو اپنے مشترکہ اقدار کو یاد رکھنا چاہیے اور ایک بہتر اور منصفانہ مستقبل کے لیے مل کر جدوجہد کرنی چاہیے۔

3:14 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔