نصابِ تعلیم کی اصلاح کے لیے علامہ دہلویؒ کی جدوجہد مشعلِ راہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
شیعیت نیوز : نصابِ تعلیم کونسل کے مرکزی کنوینر اور مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت علامہ مقصود علی ڈومکی نے صوبۂ سندھ اور بلوچستان کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خطیبِ اعظم علامہ سید محمد دہلویؒ کے یومِ وفات کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ سید محمد دہلویؒ نے نصابِ تعلیم کی اصلاح اور ملت کے حقوق کے لیے جو جدوجہد کی وہ ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ عزاداری امام حسینؑ کا تحفظ اور نصابِ تعلیم خصوصاً اسلامیات میں مکتبِ اہل بیتؑ کی ترجمانی کے لیے آپ کی طویل جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ نصابِ تعلیم کونسل، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، علامہ سید محمد دہلویؒ کی جدوجہد کی روشنی میں ان کے مطالبات اور مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گی۔ بدقسمتی سے اسلاف کی قربانیوں کو فراموش کرنے کے سبب اسلامیات اور نصابِ تعلیم میں وہ اہداف، جو طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیے گئے تھے، جلد ہی پسِ پشت ڈال دیے گئے اور ملت کو ایک مرتبہ پھر وہی سفر صفر سے شروع کرنا پڑا جس کے لیے ملت کے اکابرین اور اسلاف نے عظیم قربانیاں دی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : کربلا کے پیروکاروں نے امریکی غلامی سے انکار کیا، علامہ مقصود علی ڈومکی
انہوں نے کہا کہ علامہ سید محمد دہلوی نے شیعہ مطالبات کمیٹی کے پلیٹ فارم سے حکومت کے سامنے چار بنیادی مطالبات رکھے تھے:
-
شیعہ طلبہ کے لیے مدارس (اسکولوں) میں جداگانہ نصابِ دینیات کا انتظام کیا جائے۔
-
شیعہ اوقاف کے لیے حکومت کی زیرِ نگرانی شیعہ بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائے۔
-
تحفظِ عزاداری یعنی عزاداری امام حسینؑ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ قبول نہیں۔
-
درسی کتب سے قابلِ اعتراض اور دل آزار مواد کا اخراج کیا جائے۔
علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ علامہ سید محمد دہلوی اور ان کے ساتھیوں کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں 1975ء کا نصابِ اسلامیات منظور ہوا جس پر تمام مسالک اور مکاتبِ فکر نے اتفاق کیا تھا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 1975ء کے نصابِ تعلیم کو بحال کرتے ہوئے موجودہ نصاب کی اصلاح کی جائے۔







