ایران سلامتی کے لیے بھیک نہیں مانگتا عزت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے: قالیباف
شیعیت نیوز: ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمدباقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمانی وفد نے ایرانی عوام کی نمائندگی میں دنیا کے ممالک کی پارلیمانوں کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کی۔ دنیا بھر سے 110 سے زائد پارلیمانی وفود کی شرکت نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔
پارلیمنٹ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس امر پر توجہ ضروری ہے کہ مغربی میڈیا کی سلطنت بھرپور کوشش کررہی ہے کہ ایران کو حالیہ مسلط کردہ جنگ کا شکست خوردہ ظاہر کرے، اور ان کا مقصد یہ ہے کہ ایران کو ایک اور اپنی مرضی کے مطابق صلح قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ لہٰذا ایرانی پارلیمانی وفد کا پہلا مقصد یہ تھا کہ اس میڈیا کے تراشے گئے منظرنامے کو درست کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : علاقائی تعاون کے نئے باب: ایران و پاکستان کے 12 اہم معاہدے
قالیباف نے کہا کہ دوسری طرف، چونکہ مظلوم غزہ کے عوام ایک منظم نسل کشی کا شکار ہیں، ہمارا دوسرا مقصد یہ تھا کہ ہم ان کی مظلومیت کی صدا بنیں اور حکومتوں اور عالمی اداروں سے انسانیت کا تقاضا کریں۔ ان دونوں مقاصد کو تین طریقوں سے آگے بڑھایا گیا: پہلا، بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی سے متعلق ایک ضمنی اجلاس کا انعقاد؛ دوسرا، سرکاری تقاریر کا موقع؛ اور تیسرا، دوطرفہ ملاقاتیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کے عنوان سے اجلاس ایران کی دعوت پر جنیوا میں اقوام متحدہ کے مرکز میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں 31 پارلیمانی وفود اور 3 بین الاقوامی اداروں نے شرکت کی۔ اس پر جو جوش و خروش دکھایا گیا وہ دوست ممالک کے لیے بھی غیرمتوقع تھا۔
یہ حمایت نہ صرف دوستوں کو اطمینان بخش تھی بلکہ ایران کے دشمنوں کو برانگیختہ بھی کرگئی، کیونکہ اس نے ظاہر کر دیا کہ ایران جنگ کے بعد کی صورتحال میں ایک باوقار مقام رکھتا ہے اور مغربی میڈیا کی کمزور ایران کی تصویر کو توڑ دیا گیا۔ اس سے ایران کی عالمی حیثیت کو تقویت ملی اور دنیا کو ہمارے عقلی و درست موقف کی حمایت کا پیغام دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جنیوا میں ہماری ایک حکمت عملی یہ تھی کہ صہیونی مجرم حکومت اور اس کے مغربی حامیوں کو بے نقاب کیا جائے۔ ہم نے اس امر کی وضاحت کی کہ صہیونی حکومت کی حرکات و سکنات کو اکیسویں صدی کا نازی ازم کہا جا سکتا ہے، جو نسل پرستی، منظم نسل کشی اور دیگر ممالک کی ارضی سالمیت پر جارحیت پر مبنی ہے۔ یہ حکومت دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے، اور اگر اس کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو ہر ملک اس فاشسٹ سوچ کی آگ میں جھلسے گا۔
قالیباف نے کہا کہ ہماری تیسری حکمت عملی یہ تھی کہ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ مظلوم غزہ کے عوام کی صرف زبانی حمایت سے آگے بڑھیں اور عملی اقدام کریں۔ ورنہ بین الاقوامی نظام کو خطرہ لاحق ہوگا اور عالمی امن خطرے میں پڑ جائے گا۔







