غزہ کا درد انسانیت کا امتحان ہے، سید عبدالملک الحوثی
شیعیت نیوز: انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو بشریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے مظالم انسانی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ غزہ کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ اور ہولناک ثابت ہوا۔ معصوم بچوں کو ایسے دردناک حالات درپیش ہیں کہ ہر باضمیر انسان کا دل دہل جائے۔ بچوں کو جان بوجھ کر اسرائیلی حملوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے، یہاں تک کہ دودھ کے پاؤڈر کی فراہمی تک روکی جا رہی ہے تاکہ وہ بھوک سے مر جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: رہبر معظم انقلاب حسینی مشن کے وارث ہیں، حوزہ علمیہ کے جید استاد حسینی گرگانی
الحوثی نے انکشاف کیا کہ صہیونی فوجی بچوں کے قتل عام کی ویڈیوز تفریح کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ یہ وحشیانہ عمل بین الاقوامی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں 9 لاکھ بچے بھوک کا شکار ہیں، جن میں 70 ہزار شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ 17 ہزار مائیں فوری طبی امداد کی محتاج ہیں۔ شوگر اور گردے کے مریض غذائی قلت اور دوا کی عدم فراہمی کے باعث موت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
سید عبدالملک الحوثی نے عالمی اداروں، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور عرب لیگ کی مجرمانہ خاموشی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ:
"یہ سارے ادارے کہاں ہیں؟ غزہ کے عوام پانچ دن سے کچھ کھائے بغیر زندہ ہیں، اور مغربی طاقتیں ایک وقت کی غذا کے ذریعے ان کی سانسیں بند کر رہی ہیں۔”
انہوں نے دو ارب مسلمانوں اور کروڑوں عربوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ:
"اگر فلسطینیوں کی اس کھلی مظلومیت پر بھی ہم متحد نہ ہو سکے، تو آخر کب ہوں گے؟”
خطاب کے آخر میں انہوں نے اسرائیل کو صرف فلسطین کا نہیں، بلکہ تمام اقوام عالم کا دشمن قرار دیا اور کہا کہ:
"اگر آج ہم نے مظلوموں کا ساتھ نہ دیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔”







