شہدائے کربلا کی تدفین میں امام سجادؑ کی قیادت اور قبیلہ بنی اسد کی معاونت
کربلا میں امام حسینؑ اور اصحاب کی تدفین کی ذمہ داری امام زین العابدینؑ نے انجام دی، تاریخی شواہد اور شیعہ عقائد کی روشنی میں وضاحت

شیعیت نیوز : واقعۂ کربلا کے بعد جب عمر بن سعد کی فوج میدان چھوڑ کر واپس چلی گئی تو قبیلہ بنی اسد، جو اس علاقے کے قریب «غاضریہ» نامی قریہ میں سکونت پذیر تھا، شہدائے کربلا کے اجسادِ مطہر کو دیکھ کر جائے واقعہ پر پہنچا۔ اس وقت امام سجاد علیہ السلام نے، جو کہ انتہائی سخت حالات کے باوجود کربلا پہنچنے تھے، ان کی رہنمائی فرمائی۔ امام حسین علیہ السلام کا جسدِ مطہر اسی مقام پر دفن کیا گیا جہاں آج ان کا روضۂ اقدس واقع ہے۔
یہ اقدام نہ صرف شہدائے کربلا کی مظلومیت کے دفاع میں تھا بلکہ اہل بیت نبوت کی محبت اور وفاداری کا عملی ثبوت بھی تھا۔ بنی اسد نے امام سجاد علیہ السلام کی مدد کی اور ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق شہدائے کربلا کی شناخت اور تدفین انجام دی۔
یہ بھی پڑھیں : امام حسینؑ کا پیغام ہر دور کے لیے ہے، علامہ شہنشاہ حسین نقوی
تاریخی اور حدیثی منابع میں بیان ہوا ہے کہ جیسے ہی عمر بن سعد نے کربلا سے کوفہ کی طرف کوچ کیا، قبیلہ بنی اسد کے افراد موقع پر پہنچے، امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب پر نمازِ میت پڑھی اور تدفین کی۔ امام حسین علیہ السلام کو اسی مقام پر سپردِ خاک کیا گیا جہاں آج ان کی زیارتگاہ ہے۔
دیگر شہدائے اہل بیت علیہم السلام اور اصحاب کے لیے اسی مقام کے قریب ایک اجتماعی قبر کھودی گئی اور ان سب کو اس میں دفن کیا گیا۔ حضرت عباس علیہ السلام کو اس جگہ دفن کیا گیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے، جو غاضریہ کی راہ پر واقع ہے اور آج بھی ان کا مرقد وہیں موجود ہے۔
شیخ صدوق نے «عیون اخبار الرضا» میں حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کی شہادت کے باب میں متعدد احادیث نقل کی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام معصوم کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار صرف معصوم امام ہی ہوتا ہے۔ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ کسی بھی امام کا غسل و کفن کوئی اور انجام نہیں دے سکتا، سوائے اس کے کہ وہ خود امام ہو۔
«احتجاج» میں امام رضا علیہ السلام کی طرف سے واقفیہ (ایک منحرف فرقہ) پر احتجاج نقل ہوا ہے، جس میں علی بن حمزہ نے سوال کیا: ہم نے آپ کے آباء و اجداد سے سنا ہے کہ امام کا متولی امر (غسل و دفن) صرف کوئی ایسا امام ہوتا ہے جو اس کا جانشین ہو۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: کیا امام حسین علیہ السلام امام تھے یا نہیں؟
علی بن حمزہ نے کہا: جی ہاں، وہ امام تھے۔
امام رضا علیہ السلام نے پوچھا: ان کے امور کی انجام دہی کون کر رہا تھا؟
علی بن حمزہ نے کہا: امام زین العابدین علیہ السلام۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: لیکن علی بن حسین علیہ السلام تو اس وقت ابن زیاد کے زندان میں تھے!
علی نے جواب دیا: وہ پوشیدہ طور پر قید سے نکل کر کربلا گئے اور اپنے والد گرامی کی تجہیز و تکفین انجام دی اور پھر واپس آ گئے۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جس خدا نے علی بن حسین کو قید سے آزاد کر کے کربلا پہنچنے کی طاقت دی، وہی خدا اس امام کو بھی بغداد پہنچنے کی قدرت دے سکتا ہے تاکہ وہ اپنے والد کے امور انجام دے، جب کہ نہ وہ قید میں ہے اور نہ گرفتار۔
امام علیہ السلام کے اس کلام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی تدفین کی ذمہ داری صرف امام زین العابدین علیہ السلام نے انجام دی، کیونکہ وہی امامِ وقت تھے۔ جیسا کہ شیخ صدوق فرماتے ہیں: واقفیہ اس حدیث کی بنیاد پر اثنا عشری شیعوں پر اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ امام صادق علیہ السلام نے صرف یہ فرمایا ہے کہ امام کا غسل امام ہی انجام دیتا ہے، لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی غیر امام اس امر کو انجام دے تو یہ امر امامت کو باطل نہیں کرتا۔
لہٰذا شہدائے کربلا کی تدفین میں قبیلہ بنی اسد کی شرکت صرف اس حیثیت سے تھی کہ وہ امام سجاد علیہ السلام کے مددگار تھے۔ شہداء کی شناخت اور تدفین کی اصل نگرانی اور قیادت امام سجاد علیہ السلام کے ہی ہاتھ میں تھی اور بنی اسد نے ان کے حکم کے مطابق اس عمل کو انجام دیا۔ امام کے لیے یہ عمل نہایت آسان اور سادہ تھا۔