عمران خان پاور پالیٹکس کے خلاف ہیں، اسی لیے جیل میں ہیں: سینیٹر علامہ ناصر عباس

27 فروری, 2025 21:33

شیعیت نیوز: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ملک میں تمام خرابیوں کی جڑ اقتدار کی سیاست ہے۔ کچھ لوگ ہر حال میں اقتدار کو اپنے پاس رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، اور اسی طاقت کی سیاست نے ملک کو بحرانوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ عمران خان پاور پالیٹکس کے خلاف ہیں، اسی لیے وہ آج جیل میں ہیں۔ اگر ملک میں انصاف ہوتا اور اصولوں کی حکمرانی ہوتی تو وہ جیل میں نہ ہوتے۔ ہمیں آئین کی پاسداری پر یقین ہے، ہم محب وطن ہیں اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے حامی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ آئین کی دھجیاں اڑا کر اپنی من مانی کرنا چاہتے ہیں۔ جو خود آئین کو تسلیم نہیں کرتے، وہ ہمیں آئین شکن قرار دے رہے ہیں۔ اگر ملک میں اصلاحات پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تو ہم اس جبر کو قبول نہیں کریں گے۔ ایسی قوتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے جو پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، اور یہ رویہ ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انجینئر حمید حسین نے لیبیا کشتی حادثے میں جاں بحق افراد کی میتیں وصول کرکے ورثاء کے حوالے کر دیں

انہوں نے پاک فوج کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی افواج کے خلاف بات نہیں کرتے، کیونکہ ہماری فوج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے۔ جو کوئی پاک فوج کے خلاف بات کرتا ہے یا اس کے خاتمے کی بات کرتا ہے، وہ درحقیقت ملک دشمن ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کی اپنی ذمہ داری ہے، اور ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر ملک کی خدمت کرنی چاہیے۔ ہم اپنے وطن کے دفاع کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ پاکستان ہماری پہچان ہے، ہمارا فخر ہے، اور ہم اس کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ اصولوں کی سیاست کو فروغ دیا جائے اور اقتدار کی ہوس پر مبنی پالیسیوں کو ترک کیا جائے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کی عوامی ملکیتی زمینوں پر گرین ٹورزم کے نام پر قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی معدنیات پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محب وطن علماء و شخصیات کو شیڈول فور میں ڈالا جا رہا ہے۔ ضلع کرم میں 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن محاصرہ ختم نہیں کروایا جا سکا۔ رمضان کی آمد ہے، لیکن اشیائے خوردونوش ختم ہو چکی ہیں۔ پیٹرول اور ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ سینکڑوں اوورسیز پاراچناری شہریوں کے ویزے ختم ہو چکے ہیں۔ ہمارے سب سے زیادہ ووٹ لے کر منتخب ہونے والے تحصیل میئر مزمل فصیح کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت جیل میں ڈالا گیا ہے۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ بلاتفریق عوام کی خدمت کرتا تھا، یتیموں کو راشن اور کھانا دیتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹی ماہرنگ بلوچ اسلام آباد آئی، لیکن اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ کیسی ریاست ہے جہاں ہزاروں لوگ مسننگ ہیں، لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں؟ ریاستیں قانون کی عمل داری کے بغیر نہیں چلتیں۔ آپ کو اپنے آئینی دائرے میں رہنا ہوگا۔

4:13 شام مارچ 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔