بگن میں کالعدم لشکر جھنگوی کا کانوائے پر حملہ ،سامان لوٹ لیا،بھاری اسلحہ سے کا استعمال

16 جنوری, 2025 16:04

شیعیت نیوز:لوئر کرم بگن میں پھر کانوائے پر حملہ فورسز کے ایک اہلکار شہید چار زخمی جوابی کاروائی میں چھ حملہ آور ہلاک دس زخمی ہوگئے۔ 29 گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور کنڈکٹرز کے ساتھ رابطہ منقطع ، پاراچنار کے محصور قبائل کا حملے کی شدید الفاظ میں مذمت

ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مطابق ٹل شہر سے آج 35 گاڑیوں کو ضلع کرم روانہ کیا گیا جونہی قافلے کی پہلی گاڑی بگن بازار پہنچی تو قافلے پر راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا جس سے تین گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔
پاراچنار کے تاجر رہنماؤں حیدر عباس اور ملک دلدار نے بتایا کہ ان کی آخری بار جب ڈرائیوروں سے بات ہوئی تو ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑیوں کو لوٹنے کے بعد اگ لگائی جا رہی ہے اور ڈرائیوروں سے موبائل چھینے جا
رہے ہیں جس کے بعد ڈرائیور اور کنڈکٹروں سے رابطہ منقطع ہے۔
تاجر رہنما نظیر احمد کا کہنا تھا کہ کانوائے سے پہلے ڈرائیوروں کو دھمکی آمیز کالیں آ رہی تھی حملہ اوروں اور کال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے اور بار بار ایک ہی علاقے میں جو کانوائیوں سمیت مسافر گاڑیوں پر حملوں کی واقعات ہو رہے ہیں اس حوالے سے حکومت ضروری اقدامات اٹھائیں۔
سابق وفاقی وزیر ساجد طوری کا کہنا ہے کہ بار بار ایک علاقے میں مسافر گاڑیوں اور کنوائیوں پر حملوں کی وجہ سے پورے ضلع کے لاکھوں آبادی یرغمال بنائی گئی ہیں اور جہاں ایک طرف پاراچنار اور ملحقہ محصور علاقوں میں شاہراہؤں کی بندش کی وجہ سے لوگ ساڑھے تین ماہ سے محصور ہیں ۔
خوراک اور علاج نہ ملنے سے لوگ مر رہے ہیں وہاں لوئر کرم کے علاقے بگن چار خیل مندوری اور اوچت میں دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو کہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور فوری اقدامات اور اٹھائے جائیں ۔
گرینڈ جرگہ ممبران سابق ایم این اے پیر حیدر علی شاہ اللہ لائق اورکزئی ، سید وصی سید میاں اور نور جف نے واقعے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا ہے کہ اس قسم کاروائیوں سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور امن معاہدے کے موقع پر حکومت نے ہمارے ساتھ راستے کھولنے اور دہشتگردی کے واقعات کی صورت میں فوری کاروائی کا جو وعدہ کیا تھا اس پر عمل کیا جائے اور ضلع کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فوری ایکشن لیا جائے۔
جرگہ ممبران نے ضلع کرم کے پر امن شہریوں کو قیام امن میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھی اپیل کی ہے
تحصیل چیئرمین اغا مزمل حسین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے صرف چند کلومیٹر کے علاقے میں فائرنگ اور دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں جبکہ امن معاہدے اور دیگر حکومت کاروائیوں میں پورے ضلع کرم کو بدامنی کا سامنا ہے اور حکومت لاکھوں محصور آبادی کو ریلیف دینے کے لیے کسی قسم اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں جو کہ
افسوسناک ہے۔
تحصیل چیئرمین مزمل حسین کا کہنا ہے کہ کل بگن میں فورسز کے سیکیورٹی میں جانے والے سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا جبکہ 4 جنوری کو ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود سمیت سات افراد زخمی ہو گئے اور اج مندوری دھرنا کے شرکاء سمیت علاقے کی چھوٹے بڑے نے کانوائی پر حملہ کیا اور گاڑیوں کو لوٹا گیا۔

6:05 صبح مارچ 18, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔