ملک بھرمیں پر امن دھرنے جاری رہیں گے، سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

30 دسمبر, 2024 18:40

شیعیت نیوز: چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاراچنار میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ راستوں کی بندش سے لوگ اپنے جنازے تک نہیں لے جا سکتے۔ پاراچنار تین اطراف سے افغانستان میں گھرا ہوا ہے اور ایک طرف پاکستان ہے۔ خون جما دینے والی سردی میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن کا سامان ناپید ہو چکا ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کو یقینی بنانا ریاست کا اولین فرض ہے لیکن یہاں حکمران اور ذمہ داران بے حس ہیں۔

ہزاروں لوگ جو غیر ملک واپس جانا چاہتے ہیں پھنسے ہوئے ہیں اور کئی افراد اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے۔ بچے سکول نہیں جا رہے اور مشکلات کی وجہ سے زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ ایک قید خانے کا سماں ہے۔ یہ شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے، جو اسے مسلکی ایشو کہے گا وہ نہ پاکستان کا خیر خواہ ہے اور نہ ہی اسلام کا۔ خواتین، سکول کے بچوں اور کاروبار یا ملازمت پیشہ افراد کا کیا تعلق ہے جنگوں اور لڑائیوں سے؟

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تکفیریت ناکام ہے،پارہ چنار محاصرہ فوری ختم کیا جائے:مفتی فضل ہمدرد کا کراچی دھرنا سے خطاب

دھرنے راستے کھولنے کے لیے ہیں۔ پورے ملک سمیت بیرون ممالک میں بھی احتجاج ہو رہا ہے، جس میں ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں، بچے، بوڑھے اور جوان ساری ساری رات سخت سردی میں بیٹھے ہوئے ہیں اور پرامن احتجاج کر رہے ہیں تاکہ ڈھائی ماہ سے بند پاراچنار کے راستے کھولے جائیں۔

سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ہم یہ احتجاج راستے کھلوانے کے لیے کر رہے ہیں نہ کہ کسی کو تکلیف میں ڈالنے کے لیے۔ لہذا کراچی سمیت پورے پاکستان میں جہاں دھرنے ہو رہے ہیں، راستوں کو بند نہ کریں۔ دھرنے جاری رہیں لیکن راستے کھول دیں۔ اگر دو رویہ سڑک ہے تو ایک طرف سے راستہ کھلا رکھیں اور جوان اس صورتحال کو منظم کرتے ہوئے ٹریفک کو بھی رواں دواں رکھیں۔

راستہ بند کرنا گناہ ہے اور غیر قانونی بھی۔ کسی نے آفس، سکول، اپنے کام کاروبار اور ہسپتالوں میں پہنچنا ہے، کسی کو مشکل یا تکلیف نہ پہنچائیں۔ لاقانونیت یا قانون کو ہاتھ میں لینے والوں سے ہم لاتعلق ہیں۔ مہذب اور باشعور قوم کی طرح احتجاج کریں۔ املاک کو نقصان نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارا پرامن احتجاج اس ملک میں سب کے لیے نمونہ ہو کہ کس طرح اپنے آئینی اور قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا جاتا ہے۔

ہمارے بابصیرت اور صاحبان شعور افراد ان باتوں کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ ہمیں تھکایا نہیں جا سکتا۔ فتح مظلوموں کی ہی ہوگی، انشاءاللہ۔

5:44 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔