مسلمان ممالک کو نیٹو طرز پر اتحاد بنانا چاہئیے، سابق سیکرٹری خارجہ پاکستان
شیعیت نیوز : سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے پہلے بھی جرائت کا مظاہرہ کیا تھا۔
جب بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تو ایران نے سبق سکھایا۔
اس طرح کی کاروائی صرف ایران کرسکتا ہے۔
مسئلہ اسرائیل کی ڈھٹائی اور سینہ زوری نہیں ہے بلکہ مسلم دنیا کی کمزوری اصل مسئلے کی بنیاد ہے۔
چونکہ مسلم ممالک متحد نہیں ہیں لہذا ان کے ساتھ یہی ہونا ہے۔
اسلام کا پیغام امن ہے لیکن مسلم ممالک نے خصوصا دوسری عالمی جنگ کے بعد امن کا دور کم دیکھا ہے۔
زیادہ جنگیں مسلم ممالک میں ہوئی ہیں۔
مسلم ممالک کی سرزمینوں پر جارحیت کی گئی۔
مشرق وسطی کے کئی ممالک میں امریکہ کے اڈے موجود ہیں، ان کی موجودگی میں اختلافات ختم کرنا اور طاقتور بننا کیسے ممکن ہے؟
کشمیر، فلسطین، عراق، شام، افغانستان وغیرہ میں مسلمان بالکل بے یار و مددگار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عوام پاکستان لبنان کے ساتھ، پہلی امدادی کھیپ روانہ کردی گئی
ان سب کی وجہ مسلمان ممالک کے باہمی اختلافات ہیں لہذا اس کو ختم کرنا ہوگا۔
ایران مسلم دنیا کا واحد آزاد ملک ہے جس پر کبھی کسی نے قبضہ نہیں کیا۔
ایران دنیا میں آزادی کا نمونہ ہے۔
ایران نے پہلے بھی جرائت کا مظاہرہ کیا تھا، یہ صرف ایران کرسکتا ہے۔
مگر یہ کاروائی اس وقت کامیاب رہے گی جب پوری مسلم دنیا ایران کا ساتھ دے۔
آٹھ اسلامی ممالک اگر اکٹھے ہوجائیں اور نیٹو کے طرز پر اتحاد بنا کر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ نمٹ لیں تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے جن میں ایران، پاکستان، سعودی عرب، مصر، نائیجیریا، ترکی، ملائشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔
اگر یہ آٹھ ممالک ایک معاہدے کے ذریعے اکٹھے ہوجائیں اور مسلم دنیا کے مفادات کے تحت کام کریں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔







