پارہ چنار میں خونریز جنگ کا ساتواں روز 36 افراد شہید،شہر میں کرفیو کا سماں
شیعیت نیوز:پاراچنار ضلع کرم میں قبائل کے مابین جھڑپوں میں 36 افراد جاں بحق 80 زخمی ہوگئے۔
جھڑپوں کے باعث آمد و رفت کے راستے اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔
پولیس اور ہسپتال ذرائع کے مطابق اپر کرم کے علاقے بوشہرہ میں دو گھرانوں کے مابین مورچوں کی تعمیر پر فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا ۔
بروقت فائر بندی نہ ہونے کے باعث ضلع کے مختلف علاقوں پیواڑ،تری منگل ، کنج علیزئی ، مقبل پاڑہ چمکنی کڑمان صدہ بالش خیل سنگینہ اور خارکلی کے علاقوں میں بھی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جو کہ آج ساتویں روز بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیعہ نسل کشی میں ملوث عالمی تکفیری دہشتگرد جنید داوڑ واصل جہنم
تازہ جھڑپوں میں مزید چھ افراد جاں بحق دس زخمی ہوگئے اور مجموعی طور فریقین کے 36 افراد جاں بحق 80 زخمی ہوگئے۔
جھڑپوں کے باعث مین پشاور پاراچنار شاہراہ سمیت تمام آمد و رفت کے راستے بند ہیں جبکہ تعلیمی ادارے بھی بند ہوگئے ہیں۔
راستوں کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مارکیٹ میں اشیاء خوردونوش اور ادویات و تیل کے ذخائر ختم ہوگئے ہیں۔
قبائلی راہنما ملک فخر زمان بنگش اور حاجی سلیم خان کا کہنا ہے کہ لڑائی جھگڑوں میں کسی کا فائدہ نہیں ، بد امنی کے واقعات کے باعث علاقے کا امن تباہ ہو رہا ہے
جبکہ طوری بنگش قبائل کے رہنما جلال بنگش کا کہنا ہے کہ حکومت اگر جنگ بندی کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے تو فوری طور فائر بندی ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پارہ چنار میں حالات کشیدہ! ناصر عباس شیرازی کی پریس کانفرنس،قیام امن کا مطالبہ
ڈپٹی کمشنر ضلع کرم جاویداللہ محسود کا کہنا کہ قبائل کے مابین جھڑپیں رکھوانے کے لئے عمائیدین اور جرگہ ممبران کے ذریعے مذاکرات کا عمل جاری ہے
اور متعدد بارفائربندی کی کوششیں کی گئیں ہیں اور فائربندی تک کوشش جاری رکھی جائیگی۔







